• عقائد و ایمانیات >> فرق ضالہ

    سوال نمبر: 3698

    عنوان:

    قبروں کی زیارت کرنا اور اسکے لیے سفر کرنا کیسا ہے؟

    سوال:

    میر ی کچھ بریلوی سے بات ہورہی تھی، انہوں نے دیوبندی پر کچھ الزام لگایا، میں نے ان کا جواب دیا، جب ان کے پاس کوئی جواب نہیں آیا تو انہوں نے کہاکہ جو باتیں تم نے کہی ہے اس پر اپنے کسی مفتی سے فتوی لے کر آؤ کہ یہ باتیں سچ ہیں، وہ باتیں یہ تھیں: (۱) ہم دیوبندی قبروں پر جانا ناجائزنہیں سمجھتے اور نہ ہی ان کے لیے سفر کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں اور ان چیزوں کو اہل حدیث ناجائز سمجھتے ہیں۔ (۲) ہمارا عقید ہ ہے کہ انبیاء کرام( علیہم السلام ) شہداء اور ولی سب اپنی قبروں میں زند ہ ہیں، باقاعدہ نماز بھی پڑھتے ہیں۔ (۳) محمد بن عبد الوہاب کو ہم اہل سنت والجماعت میں نہیں شمار کرتے ہیں اور وہ دیوبندی کی نظر میں صحیح بندہ نہیں تھا۔ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 3698

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 621/ ل= 621/ ل

     

    (۱) جی ہاں! قبروں کی زیارت کرنا اور اسکے لیے سفر کرنا مستحب ہے، اس سے دنیا کی محبت کم ہوتی ہے اور آخرت یاد آتی ہے، البتہ وہاں جاکر سنت کے مطابق ایصال ثواب کرکے واپس آجانا چاہیے، وہاں جاکر صاحب قبر سے منت مانگنا، قبر پر چڑھاوا چڑھانا وغیرہ ناجائز ہے۔

    (۲) شہداء کے بارے میں زندہ ہونا نص قرآنی سے ثابت ہے اور انبیاء کادرجہ شہداء سے بڑھا ہوا ہے، بلکہ ہرنبی کو وصف نبوت کے ساتھ وصف شہادت سے بھی متصف کیا گیا ہے اس لیے انبیاء بھی اس آیت کے عموم میں داخل ہیں، فھذہ الأخبار دالة علی حیاة النبي صلی اللہ علیہ وسلم وسائر الأنبیاء وقد قال تعالیٰ في الشھداء: وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رِبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ والأنبیاء أولی بذلک فھم أجل و أعظم وما نبي إلا وقد جمع مع النبوة وصف الشھادة فیدخلون في عموم لفظ الآیة وأخرج أحمد و أبویعلی والطبراني والحاکم في المستدرک والبیھقي في دلائل النبوة عن ابن مسعود قال: لأن أحلف تسعاً أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل قتلاً أحب إلی من أن أحلف واحدة أنہ ولم یقتل وذلک أن اللہ اتخذہ نبیا واتخذہ شھیداً (الحاوي للفتاوی: ج۲ ص۱۴۸) بعض اولیاء و صالحین جو شہداء کے ہم رتبہ ہیں وہ بھی اس فضیلت میں شہداء کے شریک ہیں، سو مجاہدہٴ نفس میں مرنے کو بھی معنی شہادت میں داخل سمجھیں گے۔ (معارف القرآن ملخصا: ج۱ ص۳۴۲) احادیث میں انبیاء علیہم السلامن کے باقاعدہ نماز پڑھنے کی صراحت ہے: إن الأنبیاء أحیاء في قبورھم یصلون، مسند أبویعلی الموصلي (ج۶ ص۱۴) إلی أن قال: وصححہ المناوي ویشھد لہ أیضا حدیث أنس المتقدم برقم: ۳۳۲۵ مررت بموسی لیلة أسري بي وھو قائم یصلي في قبرہ (حوالہ سابق) شہداء یا دیگر اولیاء کے بارے میں کوئی صراحت میری نظر سے نہیں گذری۔

    (۳) محمد بن عبدالوہاب نجدی حنبلی المسلک اہل سنت والجماعت میں سے تھے، بعض نظریات و مسائل میں ہمارے اکابر شاہ اسماعیل شہید علمائے دیوبند رحمہم اللہ اور شیخ محمد بن عبدالوہاب کی جماعت کے نقطہٴ نظر میں کچھ فرق و اختلاف ہے، ہمارے بعض اکابر نے شیخ موصوف کے بارے میں جو سخت رائے ظاہر فرمائی وہ ان غلط اطلاعات اور پروپیگنڈے کی وجہ سے ظاہر فرمائی جو ان تک پہنچی۔ صحیح اطلاع ملنے پر انھوں نے اپنی سابقہ رائے سے رجوع کرلیا، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (شیخ عبدالوہاب نجدی کے خلاف پروپیگنڈہ، ہندوستان کے علمائے حق پر اس کے اثرات)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند