Pakistan

سوال # 149156

ہمارے گاوَں میں ایک مدرسہ ہے جس میں مقامی بچے ہی قرآن حفط کرتے ہیں اور ِاس میں بچوں کی رہائش نہیں ہے ، نہ ہی ی ان کا کوئی خرچہ ہے کیا قربانی کی کھالیں اس مدرسہ کو دی جا سکتی ہے ؟ واضح کر دے ۔

Published on: Mar 21, 2017

جواب # 149156

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:  714-600/H=6/1438



قربانی کی کھال جب صاحب قربانی یا اس کا وکیل (ناظم، مہتمم وغیرہ) بیچ دے تو قیمت واجب التصدق ہوجاتی ہے اور جس مدرسہ میں بچوں کے کھانے پینے کا نظم نہ ہو تو ایسے مدرسہ میں کھالیں دینا بھی جائز نہیں اس لیے کہ قیمت کو تنخواہوں یا تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات