• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 612094

    عنوان:

    كیا چكن قورمہ كھلانے سے عقیقہ ادا ہوجائے گا یا نہیں؟

    سوال:

    1. اللہ تعالی نے پانچ سال پہلے مجھے اپنی رحمت سے بیٹا عطا کیا ۔ چونکہ وہ میری پہلی اولاد تھی لہذاہ میری والدہ کی خواہش پر میں نے ایک بڑی دعوت کا اہتمام کیا جس کے لئے میں نے چاولوں کی دیگ اور چکن قورمہ کی دعوت کا ظہرانہ دیا۔ اس پر اس وقت کے حساب سے تقریبا 30،000 روپے کا خرچہ آیا۔ جبکہ اگر میں بکرے کی قربانی کرتا تو تقریبا 10000 سے 12000 روپے کا خرچہ ہوتا۔ کل ایک مولانہ صاحب نے فرمایا کہ عقیقے کے لئے بکرے کی قربانی شرط ہے ۔ لہذا ہ مجھے اپنے بیٹے کا دوبارہ عقیقے کرنا ہے بکرے کی قربانی سے ۔ اس بارے میں آپ کی رائے درکار ہے۔

    2. میری 2 بیٹیوں کا عقیقہ میرے زمہ واجب الادا ہے۔ ہمارے ہا ں ایک بکرا تقریبا 10000 سے 12000 روپے میں خریدا جاسکتا ہے۔ لہذاہ اگر دونوں کا عقیقہ اگر میں ایک ساتھ کرنا چاہتاہوں تو 24000 روپےتک خرچہ آئے گا۔ اگر قربانی کے لئے خریدے گئے جانور میں ایک حصہ لیکر جوکہ 28500 روپے فی حصہ ہے۔ تو کیا ایسا کرنا ٹھیک ہوگا؟ اور کیا دونوں کا عقیقہ ادا ہوجائے گا؟

    جواب نمبر: 612094

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1242-1022/B=11/1443

     عقیقہ بكرے كے ساتھ كرنا مسنون ہے‏۔ آپ نے چكن قورمہ كھلایا اس سے عقیقہ كی سنت ادا نہ ہوئی۔ آپ تو اپنی سہولت دیكھتے ہو كبھی ایك بیٹی كا ایك بكرا خرید كر كرلیں اور كبھی دوسری بیٹی كے لیے ایك بكرا خرید كر كرلیں‏، اور جو بیٹا پیدا ہوا ہے كبھی اس كے لیے ایك بكرا یا دو بكرے خرید كر عقیقہ كرلیں۔ قربانی كے جانور میں بہت مہنگا بیٹھے گا۔ اور ایك حصہ میں دو كا عقیقہ نہیں كرسكیں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند