معاملات - دیگر معاملات

India

سوال # 155886

حضرت، میری دوکان ذاتی ہے، ایک صاحب کے والد صاحب نے وہ دوکان کرایہ پر لی ہمارے والد صاحب سے، کاغذ بھی موجود ہے، کرایہ دار کا انتقال ہو گیا، ان کا لڑکا دوکان خالی نہیں کر رہا ہے، وراثت کی طرف اب وہ بھی اس میں کرایہ داری کرے گا، تو شریعت کے حساب سے وہ غاصب اور ظالم ہوا کہ نہیں؟ جب کہ اس کے والد نے وعدہ کیا تھا کہ جب آپ کہیں گے دوکان خالی کر دیں گے اور یہ چیز کاغذ پر بھی لکھی ہے۔

Published on: Nov 12, 2017

جواب # 155886

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 228-32T/B=2/1439



مسئلہ یہ ہے کہ جب کرایہ دار یا مالک میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو خو د بخود اجارہ ختم ہو جاتا ہے،کرایہ دار کے انتقال کے بعد بیٹے کا اپنے آپ کو کرایہ داری میں باپ کا وارث سمجھنا صحیح نہیں ہے۔ اس میں وراثت نہیں چلتی ہے اس لیے بیٹے کو چاہئے کہ فوراً دوکان کو مالک کے حوالہ کردے۔ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق بیٹا چلے گا تو اللہ تعالی اس کے رزق کا اور کوئی راستہ نکالیں گے اور اگر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی یعنی زبر دستی دوکان پر غاصبانہ کیا تو ایسا آدمی غاصب و ظالم قرار پائے گا۔ اللہ کی مدد اٹھ جاتی ہے پھر وہ ہمیشہ پریشان حال ہی رہتا ہے۔ لالچ میں آکر دوسرے کی دوکان پر زبردستی قبضہ کرنا یہ بہت بڑا ظلم ہے، اللہ تعالی ظالم کو دوست نہیں رکھتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات