• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 11477

    عنوان:

    میں کسی وجہ سے اپنے گھر والوں کے ساتھ کرایہ کے ایک مکان میں ساٹھ سال سے رہ رہا ہوں جو کہ میرے ماموں کے نام پر تھا جو کہ غیر شادہ شدہ تھے اور ان کا انتقال ہوچکا ہے۔ اب بھی میں اسی مکان میں رہ رہا ہوں مالک زمین نے کورٹ میں قانونی تخلیہ کی درخواست دے رکھی ہے۔ کیا کرایہ کے مکان میں وراثت ہوتی ہے؟ میں نے تمام اخراجات ادا کئے ہیں نہ صرف کرایہ بلکہ کورٹ کے تمام اخراجات بھی۔میں کیا کروں کیوں کہ دوسرے رشتہ دار لوگ وراثت مانگتے ہیں؟

    سوال:

    میں کسی وجہ سے اپنے گھر والوں کے ساتھ کرایہ کے ایک مکان میں ساٹھ سال سے رہ رہا ہوں جو کہ میرے ماموں کے نام پر تھا جو کہ غیر شادہ شدہ تھے اور ان کا انتقال ہوچکا ہے۔ اب بھی میں اسی مکان میں رہ رہا ہوں مالک زمین نے کورٹ میں قانونی تخلیہ کی درخواست دے رکھی ہے۔ کیا کرایہ کے مکان میں وراثت ہوتی ہے؟ میں نے تمام اخراجات ادا کئے ہیں نہ صرف کرایہ بلکہ کورٹ کے تمام اخراجات بھی۔میں کیا کروں کیوں کہ دوسرے رشتہ دار لوگ وراثت مانگتے ہیں؟

    جواب نمبر: 11477

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 656=551/د

     

    کرایہ کے مکان میں وراثت جاری نہیں ہوتی، کرایہ دار کے انتقال کرنے پر کرایہ داری کا معاملہ ختم ہوجاتا ہے، اور مالک مکان کو اختیار حاصل ہوجاتا ہے کہ جس دوسرے شخص سے چاہے اپنا معاملہ کرایہ داری کا کرلے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند