• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 64759

    عنوان: اجارہ کا معاملہ اصلا آپسی معاہدے کے مطابق ہوتا ہے

    سوال: کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی کومزدوری میں ایک مکان دیتاہے اورمزدور کہتاہے کہ میں ایک گز 100 روپیہ کے عوض بناؤں گالیکن دیوار کے اندر دروازے اورکھڑکیاں لگانی پڑتی ہے جو کہ مزدور ان کا پیسہ بھی لیتاہے ،حالانکہ ادرتودیوار نہیں بلکہ ایک خالی گاہ ہے اور مزدور یہ خالی گاہ بھی اپنی مزدوری میں شمارکرتے ہیں ۔ اب امرمطلوب یہ ہے کہ مستأجر کااسپردینا اوراجیر کواس سے لینا کیساہے ؟

    جواب نمبر: 64759

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 696-696/Sd=9/1437 اجارہ کا معاملہ اصلا آپسی معاہدے کے مطابق ہوتا ہے، اجرت کے سلسلے میں جیسا معاہدہ ہوگا، اسی کے مطابق اجرت لازم ہوگی؛ لہذا صورت مسئولہ میں اگر مالک مکان نے مزدور سے صاف صاف یہ معاملہ کیا ہے کہ فی گز مکان کی تعمیر سو روپیہ میں ہوگی، دروازے اور کھڑکیوں کی جگہ گز میں محسوب نہیں ہوگی، تو مزدور کے لیے دروازوں اور کھڑکیوں کو گز میں محسوب کر کے اُن کی اجرت لینے کا حق نہیں ہوگا اور اگر معاملہ کے وقت دروازوں اور کھڑکیوں سے متعلق کوئی صراحت نہیں کی گئی تھی، تو اس سلسلے میں لوگوں کا عرف دیکھا جائے گا، اگر عرف میں مزدور حضرات دروازوں اور کھڑکیوں کو بھی گز میں محسوب کرکے اُس کی اجرت لیتے ہیں، تو صورت مسئولہ میں مزدورکے لیے بھی اس کی ا جرت لینا جائز ہوگا، اور اگر عرف میں ایسا نہیں ہے، تو پھر مزدور کو اس کی اجرت کا استحقاق نہیں ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند