عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 173030

کیا رمضان میں سحری اور افطار کے وقت گھنٹہ بجانا تشبہ بالہنود نہیں ہے جبکہ آج اس کی ضرورت بھی نہیں ہے مائیک کے عمدہ ہونے میں وجہ سے اور اذان کی مشروعیت کے وقت صحابہ نے گھنٹہ بجانے کا مشورہ دیا تو آپ صلی علیہ وسلم نے منع فرمایا صرف مشابہت کی وجہ سے پس کیا آج گھنٹہ بجانے پر روک نہ لگادی جائے ۔

Published on: Nov 6, 2019

جواب # 173030

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:10-108/sd=3/1441



رمضان میں سحری اور افطار کے وقت گھنٹہ بجانا تشبہ بالہنود نہیں ہے، سحر و افطار کے وقت مروجہ گھنٹہ یہ طبل اور نقارہ بجانے کی ایک شکل ہے اور اعلام و اطلاع کے لیے نقارہ اور طبل بجانے کی اجازت فقہاء سے منقول ہے، پھر غیروں کے یہاں جو گھنٹی بجائی جاتی ہے، اس کی نوعیت بالکل مختلف ہوتی ہے اور وہ عبادت کا حصہ سمجھی جاتی ہے، جب کہ مروج گھنٹہ یا سائرن وغیرہ کا مقصد محض اطلاع دینا ہوتا ہے اور نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ افطار اور سحر کا گھنٹہ یا سائرن بج رہا ہے، حاصل یہ ہے کہ یہاں تشبہ بالہنود نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات