• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 56548

    عنوان: شہید كہلانے والے اور حقیقی شہید كے احكام میں فرق

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس کے متعلق کہ میرے والد صاحب درخت کے اوپرچڑھ کر ٹہنیاں کاٹ رہے تھے .وہ اکیلے تھے کوئ سا تھ نہیں تھا تھوڑی دیر کے بعد جب ہم نے تلاش کیا تو درخت کے نیچے مردہ حالت میں پڑے تھے آری اور کلہاڑی درخت کے اوپر تھی اور ایک ٹہنی کاٹی ہوئ تھی.اب یہ پتا نہیں کہ ان کی موت درخت کے اوپر ہوئ اور وہ نیچے گرے یا نیچے گرنے کے بعد موت واقع ہوئ پوچھنا یہ ہے کہ کیا میرے والد کی موت شہادت کی ہے یا نہیں۔

    جواب نمبر: 56548

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 153-153/Sd=3/1436-U کسی حادثے مثلاً: چھت یا درخت سے گرنے کی وجہ سے مرنے والا شرعاً آخرت کے اعتبار سے شہید کہلاتا ہے، ایسے شخص کو دنیا میں غسل وکفن دیا جاتا ہے اورآخرت میں اس کو شہادت کا ثواب حاصل ہوگا، آپ کے والد صاحب کا انتقال اگر درخت سے گرنے کی وجہ سے ہوا ہے، تو ان شاء اللہ ان کو آخرت میں شہادت کی فضیلت حاصل ہوگی، باقی انتقال کیسے ہوا، اس بارے میں حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ ہی و ہے، قال الحصکفي: وکل ذلک في الشہید الکامل وإلا فالمرتثُّ شہید الآخرة ․․․ وکذا ․․․ والغریق والحریق والغریب والمہدوم علیہ والمبطون ․․․ الخ قال ابن عابدین: ”فی الشہید الکامل“ وہو شہید الدنیا والآخرة وشہادة الدنیا بعدم الغسل إلا لنجاسة أصابتہ غیر دمہ․․․ وشہادة الآخرة بنیل الثواب الموعود للشہید․․․ وقال: ومن صرح عن دابة فمات ․․ الخ (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۱۵۳-۱۵۴، کتاب الصلاة، باب الشہید، مطلب في تعداد الشہداء، ط: دار إحیاء التراث العربي، وکذا في حاشیة الطحطاوي علی المراقي ص: ۶۲۸، باب أحکام الشہید، کتاب الصلاة، ط: دار الکتاب)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند