معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 157729

میرے پاس 200 بیگھہ زمین ہے اور دو لڑکوں اور چھ لڑکیاں ہیں، میں اپنی جائیداد کو اسلام کی روشنی میں تقسیم کیسے کریں؟

Published on: Jan 3, 2018

جواب # 157729

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:465-394/L=4/1439



زندگی میں مال وجائیداد کی تقسیم وراثت کی تقسیم نہیں ہے ؛بلکہ ہبہ اور عطیہ ہے اور ہبہ وعطیہ میں اولاد (خواہ مذکر ہوں یا مونث)کے درمیان مساوات سے کام لینا بہترہے؛اس لیے اگر آپ اپنی حیات میں اپنی جائیداد کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ اپنی اور اپنی اہلیہ کی ضرورت کے بقدر اموال وجائیداد رکھ کر مابقیہ کو اپنی تمام اولاد میں برابر برابر تقسیم کردیں ،اگر کسی لڑکے یا لڑکی کو اس کے نیک یا محتاج ہونے کی وجہ سے جبکہ اس سے مقصود دیگر اولاد کو نقصان پہونچانا نہ ہو کچھ زائد دیدیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ قال في الہندیة: لو وہب شئیاً لأولادہ في الصحة، وأراد تفضیل البعض علی البعض ، عن أبي حنیفة رحمہ اللّٰہ تعالی: لابأس بہ اذا کان التفضیل لزیادة فضل في الدین ، وان کانا سواء، یکرہ، وروی المعلی عن أبي یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی أنہ لابأس نہ اذا لم یقصد بہ الاضرار ، وان قصد بہ الاضرار ، سوی بینہم وہو المختار۔۔۔ ولو کانا لولد مشتغلاً بالعلم لا بالکسب ، فلا بأس بأن یفضلہ علی غیرہ۔ (الفتاوی الہندیة: ۴/ ۳۹۱، کتاب الہبة، الباب السادس)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات