India

سوال # 19241



اگر
کسی نے زنا کردیا ہو اور اس کو پچھتاوا ہورہا ہو تو اس کبیرہ گناہ کا کیا کفارہ
ہے؟



Published on: Feb 7, 2010

جواب # 19241

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی(د):
168=15
k-2/1431



 



یہ
تو آپ جانتے ہیں ہیں کہ زناکاری سخت ترین گناہ ہے، اس کی مذمت قرآن پاک میں ان
الفاظ میں بیان کی گئی ہے: [
وَلاَ تَقْرَبُوا الزِّنَا اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَةً وَّ سَآءَ
سِبِیْلاً
]
اگر اسلامی حکومت ہوتی اور زنا کا ثبوت ہوجاتا تو شادی شدہ ہونے کے صورت میں سنگ
سار کیا جاتا اور غیرشادی شدہ ہونے کی صورت میں سو کوڑے لگائے جاتے، رسوائی اور
بدنامی جگ ہنسائی الگ سے ہوتی۔ اسلامی حکومت نہ ہونے کی صورت میں رُو رُوکر معافی
مانگیں خوب خوب توبہ کریں، اتنا روئیں اللہ کے سامنے گڑگڑائیں کہ دل گواہی دینے
لگے کہ اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا ہوگا۔ آئندہ کے لیے پختہ ارادہ کرلیں کہ زنا تو
دور کی بات ہے، بدنگاہی بے پردگی جیسے گناہوں سے دور رہیں گے جن عورتوں سے پردہ
واجب ہے ان سے پردہ کریں گے، تنہائی میں تو ہرگز سامنے نہیں آئیں گے، اس طرح توبہ
استغفار اور آئندہ اس برائی کے قریب نہ جانے کا عزم بالجزم کرلیں گے، تو امید ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرماکر آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھیں گے۔
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ
ظَلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَآءُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوْا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ
الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات