Pakistan

سوال # 161558

مفتی صاحب! میں بہت زیادہ اذیت اور تکلیف کا شکار ہوں، تقریباً اکثر جگہوں پر ٹیسٹ اور انٹرویو پاس کرتا ہوں لیکن اچھی نوکری نہیں مل پارہی ہے اور بعض جگہوں پر دو چار نمبر کے فرق سے سلیکشن نہیں ہو پاتا، جس سے بھی ملتا ہوں ہر کوئی کہتا ہے کہ آپ سلیکٹ ہوں گے مطلب ہر کوئی میری قابلیت کا معترف ہے، لیکن فائنل سلیکشن میں کوئی نہ کوئی مسئلہ بن جاتا ہے۔ میں نے ہزاروں ٹیسٹ اور انٹرویو دئے ہیں، فی الحال ایک جگہ کلرک کی نوکری ملی ہے دو سال پہلے، اس کے بعد بھی کافی ٹیسٹ اور انٹرویو دئے مگر سلیکشن میں کوئی نہ کوئی مسئلہ بن جاتا ہے۔ میری ۱۸/ سال کی ایجوکیشن ہے اور کچھ تجربہ بھی ہے۔ میں دو بیٹیوں کا باپ ہوں، ابھی والد صاحب فوت گئے۔ اور خاص طور پر ماں کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں (حج، عمرہ) وغیرہ۔ اگر خدانخواستہ یہ بھی اس طرح چلی گئی تو پھر میں دولت اور نوکری پر کیا کروں گا۔ کافی غور و فکر کرنے کے بعد مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ کسی نے کچھ جادو یا تعویذ کے ذریعہ میرا راستہ بند کیا ہے اور یا تو میری قسمت ہی خراب ہے جو پہلے اتنی خراب نہ تھی۔
مہربانی کرکے قرآن و حدیث کی روشنی میں میرا مسئلہ دیکھ کر علاج بتادیں اور اگر ممکن ہو تو میرے راستے کی بندش کی وجہ بھی معلوم کرلیں، جادو ہے یا تعویذ یا اور وجہ؟
اللہ آپ کو اچھی صحت اور لمبی عمر دیوے۔ آمین

Published on: May 27, 2018

جواب # 161558

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1114-927/sd=9/1439



ہمت نہ ہاریں ،فی الحال جو ملازمت ملی ہے ، اُس پر اللہ کا شکر اداء کریں اور آیندہ بہتر سے بہتر حلال اور پاکیزہ روزی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں ،اللہ تعالی آپ کو چین و سکون عطا فرمائے ،حلال روزگار کے لیے محنت و کوشش اور دنیوی تدبیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں تقوی کا بھی اہتمام کریں، گناہوں سے بچیں، اس لیے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جو شخص تقوی اختیار کرتا ہے ،، تو اللہ تعالی اُس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے ، جہاں سے اُ س کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ وَمَن یَتَّقِ اللّٰہَ یَجعَل لَہ مَخرَجاً وَ یَرزُقہ مِن حَیثُ لَا یَحتَسِب (الطلاق:۳ ) حضرت مفتی شفیع صاحبفرماتے ہیں: اللہ تعالی متقی یعنی:گناہوں سے بچنے والے آدمی کے لیے دنیا و آخرت کی ہر مشکل و مصیبت سے نجات کا راستہ نکال دیتے ہیں اور دوسری برکت یہ ہے کہ ا س کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتے ہیں ، جہاں کا اس کو خیال و گمان بھی نہیں ہوتا ”( معارف القرآن : ۸/۴۸۶، الطلاق: ۳ )، اس لیے فرائض کا اہتمام کریں اور ہر قسم کے گناہوں سے بچیں، صبح و شام کی مسنون دعائیں پابندی سے پڑھیں، خاص طور پر ہر نماز کے بعد اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ ایک سو اکیس مرتبہ یا مغنی پڑھ لیا کریں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات