عبادات - احکام میت

India

سوال # 162013

میرے دادا جان کا انتقال آج سے ۲۳ برس قبل ۱۹۹۵ میں ہوا،ان کی نماز جنازہ ان ہی کے ایک مرشد دوست نے پڑھائی،لیکن انہوں نے پہلی تکبیر میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لیا، ثناپڑھنے کے بعد دوسری تیسری اور چوتھی تکبیر میں عیدین کی نماز کی طرح ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھا کر چھوڑ دئے اور آخر میں سلام پھیرا، پیچھے کھڑے ہوئے لوگوں میں سے چند لوگوں نے اسی طرح نماز ادا کی بعد میں کچھ لوگوں نے اعتراض کیا، لیکن نماز دہرائی نہیں گئی۔
۱- کیا میرے دادا جان کی یہ جو نماز جنازہ پڑھی گئی ، وہ صحیح تھی؟
۲- نماز جنازہ ہوگئی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہوئی تو کیا اب دوبارہ غائبانہ طور پر ان کی نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے ؟
۳- اگر نہیں پڑھی جاسکتی تو بہ صورت دیگر اس کی تلافی کیسے کی جاسکتی ہے ؟ مجھے کسی نے بھی اس کا خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔ میں اور میرے والد آپ سے بڑی امید اس کا جواب چاہتے ہیں۔
آپ جلد سے جلد اس کا جواب دینے کی زحمت فرمائیں۔ نوازش ہوگی، اس سے پہلے بھی کئی سوالات میں نے بھیجے ہیں لیکن اب تک بہت سوں کے جواب نہیں ملے ہیں۔

Published on: May 31, 2018

جواب # 162013

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1179-950/sd=9/1439



(۱تا ۳) اگر آپ کے دادا کی نماز جنازہ میں امام نے چار تکبیریں کہی تھیں، تو نماز ہوگئی،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، خواہ دوسری، تیسری اور چوتھی تکبیر کہنے کے بعد ہاتھ نہ باندھے ہوں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات