• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 32731

    عنوان: ایک قبرستان ہے جس کی چاروں طرف سے دیوار ہے اور دیوار کے اندر مشرق سمت میں اشرکھانا (نماز جنازہ کی جگہ ) ہے، وہاں پر کچھ لوگ پانچ وقت کی نماز اور نماز جمعہ بھی ادا کرتے ہیں اس طرح سے کہ ساری قبریں مغرب سمت میں ہیں،یعنی قبریںآ گے ہیں اور اشرکھانا پیچھے ہیں، سوال یہ ہے کہ نماز پڑھنے والوں کی نماز ہوجائے گی یا نہیں؟اس اشر کھانے میں نماز جنازہ کے علاوہ پانچوں وقت کی نماز نیز جمعہ پڑھنا کیساہے؟ اور اس جگہ سے فتنے پھیلائیں جاتے ہیں، مسلمانوں کے آپسی اتحاد و اتفاق کو درہم برہم کیا جاتاہے جمعہ کے فتنہ انگیز بیانات کے ذریعہ سے ۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    سوال: ایک قبرستان ہے جس کی چاروں طرف سے دیوار ہے اور دیوار کے اندر مشرق سمت میں اشرکھانا (نماز جنازہ کی جگہ ) ہے، وہاں پر کچھ لوگ پانچ وقت کی نماز اور نماز جمعہ بھی ادا کرتے ہیں اس طرح سے کہ ساری قبریں مغرب سمت میں ہیں،یعنی قبریںآ گے ہیں اور اشرکھانا پیچھے ہیں، سوال یہ ہے کہ نماز پڑھنے والوں کی نماز ہوجائے گی یا نہیں؟اس اشر کھانے میں نماز جنازہ کے علاوہ پانچوں وقت کی نماز نیز جمعہ پڑھنا کیساہے؟ اور اس جگہ سے فتنے پھیلائیں جاتے ہیں، مسلمانوں کے آپسی اتحاد و اتفاق کو درہم برہم کیا جاتاہے جمعہ کے فتنہ انگیز بیانات کے ذریعہ سے ۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 32731

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1468=185-8/1432 جو جگہ نماز جنازہ کے لیے قبرستان میں مخصوص کرلی گئی، اگر سامنے قبریں نہ آتی ہوں یا اتنی دور ہوں کہ نمازی کی نظر ان پر نہ پڑے، وہاں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے، ورنہ مکروہ ہے، پنجوقتہ نماز بھی ایسی جگہ پڑھنا مکروہ ہے، لہٰذا پنجوقتہ نماز تو قبرستان کے باہر ادا کی جائے، اتفاقیہ کہیں اس چبوترے پر پڑھ لینے کی نویت آجائے تو گنجائش ہے بشرطیکہ قبریں سامنے نہ آئیں یا اتنی دور ہوں کہ نمازی کی نگاہ ان پر نہ پڑے۔ نوٹ: وہاں پنجوقتہ نماز اور جمعہ ادا کرنے کی کیا ضرورت درپیش ہے؟ نیز قبرستان کی نوعیت اور صورتِ حال کیا ہے؟ مقامی مفتیانِ کرام کو موقعہ کا معائنہ کراکر حکم معلوم کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند