معاملات - بیع و تجارت

India

سوال # 174784

محترم مکرم حضرت اقدس مفتی صاحب دامت براکاتہم ایک مسئلے کو سمجھنے کے اندر کچھ دشواری پیش آرہی ہے،برائے حل یہ تحریر ارسال کی گئی،معاونت فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں۔ اکثر کتب فتاوی کے اندر یہ مسئلہ درج ہے کہ اگر کوئی چیز ایسی ہے جو جائز اور ناجائز دونوں کام میں مستعمل ہے تو اس کو ایسے مشتری کے ہاتھ بیچناجس کے متعلق علم ہو کہ وہ اس کو ناجائز کام ہی کے اندر استعمال کرے گا، جائز ہے،ناجائز کام میں استعمال کرنے کی ذمہ داری اسی فاعل مختار پر ہوگی۔ (محمود الفتاوی (مبوب)۵۴۱/۵ ،فتاوی دینیہ ۸۶/۴،۵۶،فتاوی قاسمیہ ۳۱۲/۱۹ وغیرہ) حالاں کہ جواہرالفقہ جلد ۷ص : ۵۱۲پر حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رح اس جیسے مسئلے کے اندر امام ابوحنیفہ اور صاحبین کا اختلاف نقل کیا ہے،جس میں امام صاحب کا قول جواز مع الکراہت بحوالہٴ خلاصةالفتاوی مذکور ہے۔جس کی عبارت یوں ہے۔”یصح الاجارة ولکن یأثم.“ تو اب سوال یہ ہے کہ امام اعظم کے بقول بھی جب یہ اجارہ باعث گناہ ہے تو پھر فتاوی میں اس کی گنجائش کیوں دی جاتی ہے؟

Published on: Dec 9, 2019

جواب # 174784

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 264-233/D=04/1441



جن چیزوں کا استعمال جائز و ناجائز دونوں کاموں میں ہوتاہے اس کی بیع باالاتفاق جائز ہے اور اگر معلوم ہو جائے کہ مشتری ناجائز ہی کام میں استعمال کرے گا، تب بھی امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے؛ لیکن کراہت سے خالی نہیں ہے؛ البتہ کراہت کا حکم مطلق نہیں؛ بلکہ اگر معصیت اس شی کے عین کے ساتھ متعلق ہو یعنی: بغیر کسی تغیر و تبدیلی کے ناجائز کام میں استعمال ہو سکتی ہو تو مکروہ تحریمی ہے جو کہ باعث گناہ ہے۔ فی خلاصة الفتاوی: بخلاف الطنبور وغیرہ إذا استاجر حیث یطیب لہ الأجر؛ لأنہ یصلح بمصالح آخر بأن یجعلہ وعاء إلا أنہ یأثم في الإعانة علی المعصیة ۔ (۳/۱۵۰، ط: أشرفیة دیوبند) لیکن اگر معصیت اس کے عین کے ساتھ متعلق نہ ہو؛ بلکہ تغیر و تبدیلی کے بعد ہی اسے ناجائز کام میں استعمال کیا جاسکتا ہو تو اس کا گناہ تو فاعل مختار پر ہوگا پھر بھی یہ بیع کراہت تنزیہی سے خالی نہیں ہے۔ وجاز بیع عصیر عنب ممن یعلم أنہ یتّخذہ خمرا ؛ لأنّ المعصیة لاتقوم بعینہ بل بعد تغیّرہ ۔ (الدر المختار: ۹/۵۶۰، ط: زکریا دیوبند)



سوال میں مذکور کتابوں میں جو فتوی لکھا ہوا ہے وہ دوسری صورت سے متعلق ہے اور جو چیز مکروہ تنزیہی ہو اس کو جائز کہہ سکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات