• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 51039

    عنوان: لوگوں کو دھوکہ دے کر مال فروخت کرنا جائز نہیں

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں ایک آدمی (شوکت خان)کا نسوار کا کاروبار ہے وہ خود نسوار بناتا ھے اور فروخت کرتا ھے جس کے لئے اس نے حکومت سے ایک برانڈ نمبر مع ڈیزائن اور کلر اسکیم رجسٹرڈ کرا رکھا ہے اس کا رجسٹرڈ نمبر ۵۵۵ ہے ۔جب کہ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا آدمی ہے جس کی نسوار پہلے والے کے معیار کی بھی نہیں ہے لیکن اس نے اپنے مال کا جو پیکٹ بنایا ہے اس میں اس نے کوشش کی ہے کہ وہ شوکت خان کے ڈیزائن سے ملتا جلتا ڈیزائن بنائے اگرچہ اس کا نمبر الگ ہے جو کہ حکومتی ادارے سے رجسٹرڈ بھی نہیں ہے ،لیکن ڈیزائن اور کلر اسکیم بالکل شوکت خان جیسی ہے جس سے خریدار دھوکا کھا جاتے ہیں دونوں افراد کے پیکٹ کی کاپی ساتھ لف ہے جس میں سے ۵۵۵ نمبر شوکت خان کا ہے جو کہ رجسٹرڈ ہے اور ۳۳۳ دوسرے آدمی کا ہے جو کہ رجسٹرڈ بھی نہیں ہے ۔

    جواب نمبر: 51039

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 371-292/L=4/1435-U لوگوں کو دھوکہ دے کر مال فروخت کرنا جائز نہیں قال علیہ السلام: ”من غشّنا فلیس منا“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بیع کرتے وقت اپنے سامان کی تعریف کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ وکان أبو حنیفة یکرہ أن یمدح الرجل سلعتہ عند البیع (عالمگیري: ۵/ ۳۶۴) اگر دونوں کمپنیوں میں فرق کو جانتے ہوں اور جاننے کے باوجود ۳۳۳ نمبر کے نسوار کو خریدتے ہوں تو ایسی صورت میں غرر نہ ہوگا، جہاں تک رجسٹرڈ ہونے کا مسئلہ ہے تو یہ قانونی چیز ہے کسی کمپنی کا رجسٹرڈ ہونا شرعاً ضروری نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند