• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 600324

    عنوان: مشتركہ كاروبار میں نفع كس طرح متعین كیا جائے؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں؟ احقر نے اپنے چند احباب کے ساتھ مشترکہ طور پر تجارت کا سلسلہ شروع کیا ہے تجارت میں شرکت کرنے والے مدارس مساجد سے منسلک علماء ہیں!اس تجارت میں کل 6 افراد شریک ہیں جن میں 2 افراد مع رقم کے کاروبار میں محنت کرتے ہیں نیز 4 افراد محض رقم لگاکر شریک ہیں محنت نہیں کرتے ! کاروبار شروع کرنے سے قبل احقر نے یہ طے کیا ہے کہ کاروبار میں محنت کرنے والے افراد 75 سے 80 فیصد نفع اور نقصان میں شریک ہونگے ،اور محض رقم لگاکر شریک ہونے والے 20 سے 25 فیصد نفع اور نقصان میں شریک ہونگے ؟ لہذا قرآن و حدیث کی روشنی میں مزید وضاحت فرماکر رہنمائی فرمائیں نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 600324

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 50-39/M=02/1442

     کاروبار میں جو احباب محنت کرتے ہیں اور ان کا سرمایہ بھی لگا ہوا ہے اُن کے نفع کا تناسب زیادہ رکھ سکتے ہیں اورجن شرکاء کا صرف سرمایہ لگا ہے اور محنت نہیں کرتے ہیں اُن کے نفع کا تناسب کم رکھ سکتے ہیں لیکن نفع کا ایک تناسب متعین طور پر طے ہو جانا چاہئے مثلاً محنت کرنے والے کو 75 فیصدی نفع دیا جائے گا اور محض رقم لگانے والے کو 25 فیصدی نفع ملے گا اس طریقے پر نفع طے نہ کریں کہ 75 سے 80 فیصد یا 20 سے 25 فیصد۔ اور اس کے علاوہ کاروبار میں کوئی ناجائز امر نہ ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند