• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 2075

    عنوان: میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ میرا شعبہ کمپیوٹر کا ہے اور مجھے الیکٹرانکس کی چیزوں کا بہت تجربہ ہے۔ اب اس کمپنی کے اکثر لوگ مجھے کوئی چیز خریدنے کے لیے کہتے ہیں اور ریٹ پوچھتے ہیں۔ اگر میں ان کو پوری قیمت بتادوں تو وہ اتنے پیسے ہی دیتے ہیں ۔ اس لیے میں ان سے تھوڑے سے زیادہ پیسے لے لیتا ہوں جس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے مارکیٹ جاکر اپنا ٹائم اور پٹرول خرچ کرنا ہوتا ہے۔ میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ کیا میرے لیے ایسا کرنا درست ہوگا؟اگر درست ہے تو بھی اس کی تفصیل بیان کردیں اور اگر نہیں تو کوئی اور حل بتادیں۔

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ میرا شعبہ کمپیوٹر کا ہے اور مجھے الیکٹرانکس کی چیزوں کا بہت تجربہ ہے۔ اب اس کمپنی کے اکثر لوگ مجھے کوئی چیز خریدنے کے لیے کہتے ہیں اور ریٹ پوچھتے ہیں۔ اگر میں ان کو پوری قیمت بتادوں تو وہ اتنے پیسے ہی دیتے ہیں ۔ اس لیے میں ان سے تھوڑے سے زیادہ پیسے لے لیتا ہوں جس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے مارکیٹ جاکر اپنا ٹائم اور پٹرول خرچ کرنا ہوتا ہے۔ میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ کیا میرے لیے ایسا کرنا درست ہوگا؟اگر درست ہے تو بھی اس کی تفصیل بیان کردیں اور اگر نہیں تو کوئی اور حل بتادیں۔

    جواب نمبر: 2075

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1519/ ھ= 1189/ ھ

     

    لوگ آپ سے کسی چیز کے خریدنے کو کہیں اور آپ ان کی پیشکش کو قبول کرلیں تو آپ ان کے وکیل بن گئے اور وکیل کو جائز نہیں کہ خرید سے زائد قیمت بتلاکر لوگوں سے وصول کرے کہ صراحةً جھوٹ ہے، البتہ آپ اگر اپنی دوڑ دھوپ جد و جہد خریدنے میں کرنے پر ان لوگوں سے اپنی اجرت طے کرلیا کریں تو اجرتِ مقررہ لینا درست ہے اور دوسری صورت جواز کی یہ ہے کہ آپ بحیثیت وکالت اشیاء خرید کر دینے کا معاملہ قبول نہ کریں بلکہ ان سے صاف کہہ دیں کہ میں ان چیزوں کو ان شاء اللہ کل تک حاصل کروں گا اور پھر آپ لوگوں کے ہاتھ فروخت کروں گا۔ اور جب وہ چیزیں آپ خریدکر بازار سے لے آئیں اور اپنے قبضہ لے لیں تو زائد قیمت (منافع سے) لگاکر بیچنا جائز ہے ایسی صورت میں آپ وکیل نہیں بلکہ بیع و شراء میں اصیل ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند