• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 179688

    عنوان:
    لاك ڈاؤن میں نماز عید الاضحیٰ اور قربانی سے متعلق ضروری ہدایات واحكامات

    سوال:
                                    حضرات مفتیان کرام دار الافتاء، دار العلوم دیوبند
                                    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
                    عید الاضحی کا وقت قریب ہے، موجودہ حالات کے تناظر میں بعض لوگوں کی طرف سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس سال حالات کے پیش نظر قربانی کے بجائے اتنی رقم کے ذریے غرباء، مساکین اور محتاجوں کی مدد کردی جائے ، یہ بات کہاں تک صحیح ہے؟ نیز نماز عید اور قربانی کے تعلق سے ضروری ہدایات کے بارے میں بھی لوگ سوال کررہے ہیں، اس سلسلے میں اگر کوئی جامع اور مختصر تحریر مرتب کرلی جائے، تو مناسب معلوم ہوتا ہے۔فقط والسلام
    (حضرت مولانا) عبد الخالق مدراسی
    قائم مقام مہتمم دار العلوم دیوبند
    یکم ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ

    جواب نمبر: 17968801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:976-184T/D=12/1441

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

                    اِسلام میں قربانی کی حیثیت ایک مستقل عبادت کی ہے ، قرآن کریم میں خود حضرت نبی کریم ﷺ کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ حضور ﷺ نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد مسلسل دس سال قربانی کا اہتمام فرمایا۔( ترمذی، رقم: ۱۵۰۷) ۔

                    احادیث نبویہ میں بھی اس کی فضیلت آئی ہے، ایک حدیث میں ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! یہ قربانی کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا : تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے۔ (ابن ماجہ، رقم: ۳۱۱۸) دوسری حدیث میں ہے کہ قربانی کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے ہی سے گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔ ( طبرانی ، رقم :۲۵۰۹)

                    دوسری طرف وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں پر حضور ﷺ نے سخت ناراضگی کا بھی اظہار فرمایا ہے، حدیث میں ہے کہ جو شخص قربانی کی گنجائش رکھے اور قربانی نہ کرسکے ، و ہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے ۔ ( مستدرک حاکم، رقم : ۳۴۶۸) حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : اس سے کس قدر ناراضگی ٹپکتی ہے ؟ کیا کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کی سہار کرسکتا ہے ؟ (حیاۃالمسلمین)اس لیے فقہاء کرام نے ہر عاقل بالغ مرد اور عورت اور مقیم جو صاحب نصاب ہو، اس پر قربانی کو واجب قرار دیا ہے۔( شامی)

                    لہذا مسلمانوں کو ایام قربانی میں قربانی کی عبادت پورے اہتمام اور خوش دلی کے ساتھ انجام دینی چاہیے، حدیث میں ہے کہ تم لوگ جی خوش کرکے قربانی کرو ۔ ( ابن ماجہ ۳۱۲۶) قربانی کے ایام میں دوسری کسی عبادت کو قربانی کا بدل سمجھنا غلط ہے، حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ قربانی کے دن میں آدمی کا کوئی عمل اللہ تعالی کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ پیارا نہیں ہے۔ ( ابن ماجہ، رقم: ۳۱۲۶)

                    حتی کہ فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ جیسے نماز پڑھنے سے روزہ اور روزہ رکھنے سے نماز کا فریضہ اداء نہیں ہوتا، اسی طرح اگر کوئی شخص قربانی نہ کرکے یہ چاہے کہ وہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کردے، تو اس کی قربانی اداء نہیں ہوگی اور وہ تارک عبادت سمجھا جائے گا اور گنہگار ہوگا ، لہذ اجن مسلمانوں پر قربانی واجب ہے،ان کے لیے ہر سال کی طرح امسال بھی قربانی کا اہتمام کرنا لازم اور ضروری ہے، اس سلسلے میں کسی طرح کی غفلت برتنا اسلام اور اہل اسلام کے لیے نقصان دہ ہے،قربانی ایک ایسی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں سے ہے،یہ محض جانور کو ذبح کرنا نہیں ہے؛ بلکہ اسلام کے شعار کے طور پراس عبادت کو انجام دیا جاتا ہے ، اس عبادت کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا، لہذا قربانی کے بجائے اتنی رقم غرباء مساکین کو صدقہ کرنے کی بات قطعا درست نہیں ہے، یہ سراسر ناواقفیت ہے، اسلام میں غرباء اور مساکین کی مدد کا مستقل تاکیدی حکم ہے، جس کے لیے صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں طرح کا نظام موجود ہے۔

                    اب چند ضروری ہدایات ذکر کی جاتی ہیں:

    o       عشرہ ذی الحجہ میں عبادت کا خوب اہتمام کیا جائے، بالخصوص نویں ذی الحجہ ( عرفہ ) کے روزے کا اہتمام کیا جائے احادیث میں ان دس دنوں میں عبادت کرنے کی فضیلت آئی ہے، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی کی عبادت کے لیے عشرہ ذی الحجہ سے بہتر کوئی زمانہ نہیں، ان میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے برابر اور ایک رات کی عبادت کرنا شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔ ( ترمذی ، رقم : ۶۸۹)

    o       نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر تک فرض نمازوں کے بعد بآواز بلند تکبیر تشریق کا اہتمام کیا جائے، تکبیر تشریق یہ ہے: اللہ أکبر، اللہ أکبر، لا الہ الا اللہ واللہ أکبر اللہ أکبر وللّٰہ الحمد۔

    o       عیدالاضحی کی دو رکعت نماز چھ زائد تکبیروں کے ساتھ واجب ہے،اس لیے سنت کے مطابق یہ نماز پورے اہتمام سے حسب شرائط جماعت کے ساتھ اداء کی جائے۔

    o       دسویں ذی الحجہ عید کی نماز کے بعد سے بارہویں کے غروب سے پہلے پہلے تک قربانی کی جاسکتی ہے؛ البتہ پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے۔

    o       مسنون طریقے پر قربانی کی جائے ، جانور کو بائیں پہلو پر قبلہ رخ لٹائیں، یعنی اس کے پیر قبلہ کی طرف کردیں اور اپنا دایاں پاؤں اس کے شانے پر رکھ کر بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر تیز چھری سے ذبح کریں، افضل یہ ہے کہ اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کی جائے، اگر خود نہ کرسکے، تو کم از کم قربانی کے وقت سامنے موجود رہے، ذبح کے وقت قربانی کی نیت بھی کی جائے اور دعا پڑھ لی جائے۔

    o       حسب استطاعت اچھے سے اچھا اور اعلی قسم کا جانور ذبح کرنے کی کوشش کی جائے، عیب دار جانور سے احتراز کیا جائے۔

    o       جانور ذبح کرتے وقت ہر ایسے طریقے سے احتراز کیا جائے جس سے جانور کو زیادہ تکلیف ہو ، پہلے ہی سے سارے انتظامات کرلیے جائیں، جانور کو بے جا تکلیف پہنچانا گنا ہ ہے، حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کو فرض قرار دیا ہے، اس لیےکسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح کرو ۔ ( مسلم، رقم: ۱۹۵۵ )۔

    o       قربانی سے پہلے جانور کے کھانے پینے کا خیال رکھا جائے، اسلام میں جانوروں کے بھی مستقل حقوق بتلائے گئے ہیں۔

    o       افضل یہ ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لیے رکھا جائے، ایک حصہ احباب و اعزہ کے لیے اور ایک حصہ فقراء اور مساکین میں تقسیم کردیا جائے ۔

    o       ایام قربانی میں خاص طور پر صفائی ستھرائی کا اہتمام کیا جائے ، جانور کے فضلات اور زائد چیزوں کو کسی مناسب جگہ دفنا دیا جائے، راستے میں اور عوامی مقامات پر ایسی چیزیں نہ ڈالی جائیں، اسلام نے جہاں عموما صفائی ستھرائی پر زور دیا ہے اور اس کو نصف ایمان قرار دیا ہے، وہیں راستوں اور گزرگاہوں کی صفائی کو خاص اہمیت دی ہے، حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا ایمان کا ایک حصہ ہے ۔(مسلم، رقم: ۳۸)

    از:                           زین الاسلام قاسمی الٰہ آبادی، مفتی          03/12/1441

    الجواب صحیح:            حبیب الرحمن عفا اللہ عنہ، مفتی ، محمود حسن بلند شہری غفرلہ، وقار علی غفرلہ، فخرالاسلام عفی عنہ، محمد مصعب عفی عنہ، محمد اسد اللہ غفرلہ


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند