• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 179564

    عنوان: لاک ڈاون میں مدرسین کی تنخواہ کا مسئلہ

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائِدین ومفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کے نفاذ اور حکومت کی طرف سے تعطیلِ مدارس کے حکم کے پیشِ نظر احقر نے بھی مدرسے کی تعطیل کردی تھی ، جس کی وجہ سے قریب کے اساتذہ کرام وملازمین تو کسی طرح اپنے گھروں پر چلے گئے لیکن دور کے رہنے والے لاک ڈاؤن کی دشواری کی وجہ سے گھر نہ جا سکے بلکہ مدرسے میں ہی مقیم ہیں تقریباً ۲۱دن سے یہی صورتِ حال ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں اساتذہ کرام و ملازمین کے لیے تنخواہ کا جواز ہوگا یانہیں، اگر جواز ہو تو گھروں پر اور مدرسے میں مقیم سب کے لیے ہوگا یا کچھ تفصیل ہوگی، اور اگر تنخواہ کا جواز مذکورہ دونوں طرح کے لوگوں کے لیے ہو تو پھر سب کو ان کی متعینہ تنخواہ دی جا ئے گی یا کسی کے لیے کچھ تفصیل ہوگی ، جبکہ تقرری کے وقت ایسے حالات سے متعلق کسی طرح کی (تنخواہ دینے اور نہ دینے کی) کوئی بھی شرط نہ تھی۔ براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ بیّنوا توجروا

    جواب نمبر: 17956401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 792-657/D=10/1441
    اگر وہ لوگ مدرسہ کے مستقل ملازم ہیں تو وہ ایام رخصت کی تنخواہ کے حق دار ہوتے ہیں اسی طرح لاک ڈاوٴن کی وجہ سے جو پابندی عاید ہوگئی جس کی وجہ سے ملازمین اور مدرسین مدرسہ کا کام نہ کر سکے تو اجارہ کا معاملہ برقرار رہنے کی وجہ سے وہ تنخواہ کے حقدار ہوں گے؛ البتہ مہینہ پورا ہونے پر فوری مطالبہ تنخواہ کا نہ کیا جائے بلکہ مدرسہ میں رقم فراہم ہونے تک مہلت دیدی جائے تاکہ اہل مدرسہ کو بھی ادا کرنے میں گنجائش اور سہولت حاصل رہے۔
    ہاں اگر مدرسہ کے ذمہ داروں نے مدرسہ میں پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے ملازم کو اجارہ ختم کرنے کی اطلاع کردی ہوتو پھر آئندہ دنوں کی تنخواہ بذمہ مدرسہ لازم نہ ہوگی۔
    قال فی الدر: تفسخ بالقضا او الرضا ․․․․․․ وبعذر افلاس مستاجر دکان لیتجر الخ (الدر مع الرد: ۹/۱۱۲)
    اس عبارت سے واضح ہے کہ مستاجر کا مفلس ہو جانا اجارہ کے ختم ہونے کے اعذار میں سے ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند