• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 2996

    عنوان:

    میں شیئر کے بارے میں پوچھنا چاہتاہوں۔ میرے ابو کے ریٹائرمنٹ کے موقع پر مسلم کمر شیل بینک (سودی بینک) کے صدر نے پالیسی بنائی کہ سارے ملازمین کم از کم سو شیئر خرید یں گے۔ پھر ہر سال ان شیئر کا منافع ملتارہتاہے ، کبھی پیسوں میں اور کبھی شیئر الاٹ کردیتے ہیں۔ اب وہ سو شیئر بڑھ کر ۱۷۸/ ہو گئے ہیں ۔ اب ہم اس کو بیچ دیں تو اس سے جو پیسے آئیں گے وہ حلال ہوں گے یا حرام؟

    سوال:

    میں شیئر کے بارے میں پوچھنا چاہتاہوں۔ میرے ابو کے ریٹائرمنٹ کے موقع پر مسلم کمر شیل بینک (سودی بینک) کے صدر نے پالیسی بنائی کہ سارے ملازمین کم از کم سو شیئر خرید یں گے۔ پھر ہر سال ان شیئر کا منافع ملتارہتاہے ، کبھی پیسوں میں اور کبھی شیئر الاٹ کردیتے ہیں۔ اب وہ سو شیئر بڑھ کر ۱۷۸/ ہو گئے ہیں ۔ اب ہم اس کو بیچ دیں تو اس سے جو پیسے آئیں گے وہ حلال ہوں گے یا حرام؟

    جواب نمبر: 2996

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 139/ ب= 135/ ب

     

    اگر کمپنی جائز کاروبار کرتی ہے پھر منافع کے حصول کی صورت میں وہ منافع تقسیم کرتی ہے چاہے پیسے کی شکل میں یا شیر الاٹ کراکر اگر کمپنی حلال کاروبار کرتی ہے ساتھ ساتھ بینک سے سودی قرض لیتی ہے یا اپنی زائد رقم سودی اکاوٴنٹ میں رکھ کر اس پر سود وصول کرتی ہے تو اس صورت میں جو جائز و ناجائز مخلوط آمدنی ہوتی ہے شیر ہولڈر کو چاہیے کہ وہ اسٹیٹمنٹ کے ذریعہ کمپنی میں معلوم کرے کہ آمدنی کا کتنا فی صد حصہ سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہے۔ مثلاً اگر پانچ فی صد کمپنی کے سودی نفع میں ملا ہے تو شیرز ہولڈر کو چاہیے کہ کل منافع میں سے پانچ فی صد غریبوں اورمحتاجوں پر صدقہ کردے، پھر مابقی پیسے استعمال میں لاسکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند