عبادات - زکاة و صدقات

KSA

سوال # 146861

(۱) کیا کوئی دینی مدرسہ ایک سال سے زائد عرصہ تک زکاة کی رقم رکھ سکتاہے؟جیسے کہ ایک مدرسہ زکاة کی رقم اکٹھا کرتاہے (تبدیل کرنے کے طریقے سے ) اور وہ اس میں سے خرچ کرتاہے ، مگرایک سال گذرنے کے بعد بھی زکاة کی رقم بچ جاتی ہے تو
(۲) کیا مدرسے کو اس بچی ہوئی رقم پر زکاة ادا کرنی پڑے گی؟

Published on: Jan 4, 2017

جواب # 146861

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 243-214/N=4/1438



 



(۱) مدارس میں بہت زیادہ لمبی مدت تک زکوة کی رقمیں نہیں رکھنی چاہیے؛ بلکہ زکوة کی رقمیں جلد از جلد زکوة کے شرعی مصارف میں چندہ دہندگان کی منشا کے مطابق شرعی طریقہ پر صرف کردینی چاہیے، بعض اہل مدارس کے بارے میں معلوم ہوا کہ ایک سال کی ضروریات کا پیسہ آجانے کے بعد چندہ کا سلسلہ بند کردیتے اور چندہ دہندگان کو کہہ دیتے کہ دیگر ضرورت مند مدارس کو دیں، یہ بہت مناسب اور قابل تقلید عمل ہے ۔



(۲) اگر اہل مدرسہ کے پاس ایک سال سے زیادہ زکوة کی رقمیں باقی رہیں تو ان رقوم پر زکوة واجب نہ ہوگی، اوسع قول یہی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات