• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 18044

    عنوان:

    میں زکوة کے بارے میں جاننا چاہتاہوں۔ اگر گزشتہ سال میری بچت چار لاکھ تھی اورمیں نے ان پیسوں کی زکوة ادا کردی ہے،اب میں ان پیسوں کو مستقبل کے اخراجات کے لیے رکھنا چاہتا ہوں۔ اب اس سال میری بچت تین لاکھ ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھ کو صرف اس سال کی بچت تین لاکھ پر زکوة ادا کرنی ہوگی یا میری پچھلی تمام بچت پر؟

    سوال:

    میں زکوة کے بارے میں جاننا چاہتاہوں۔ اگر گزشتہ سال میری بچت چار لاکھ تھی اورمیں نے ان پیسوں کی زکوة ادا کردی ہے،اب میں ان پیسوں کو مستقبل کے اخراجات کے لیے رکھنا چاہتا ہوں۔ اب اس سال میری بچت تین لاکھ ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھ کو صرف اس سال کی بچت تین لاکھ پر زکوة ادا کرنی ہوگی یا میری پچھلی تمام بچت پر؟

    جواب نمبر: 18044

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل):1970=1870-12/1430

     

    صورتِ مسئولہ میں آپ کو تمام بچت پر زکاة ادا کرنی ہوگی، صرف اس سال کی بچت پر تین لاکھ زکاة ادا کرنا کافی نہیں ہوگا۔

    نوٹ: اگر یہ آمدنی تجارت سے حاصل ہوئی ہے تو آمدنی کے ساتھ سامان تجارت کی قیمت پر بھی زکات واجب ہوگی۔ (ل)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند