India

سوال # 157680

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں: میرے نانا کے بھائی مرحوم عبداللہ عبدالرحیم گھنسارے نے اپنے محلہ کے مسجد کی آمدنی کے لئے تقریبا بیس سال پہلے ۶ گنٹھا زمین وقف کی تھی لیکن مسجد کے ذمہ دار حضرات نے واقف کے بار بار یاددہانی کے باوجود اس وقف کی ہوئی جگہ کو آج تک مسجد کی آمدنی کے لئے استعمال نہیں کیا ہے اور وہ جگہ یوں ہی خالی پڑیہ ہوئی ہے اور کچھ لوگ اس جگہ کا استعمال اپنی ذات کیلئے کر رہے ہیں۔ نیز اس جگہ کے تمام سرکاری کاغذات بھی مرحوم واقف کے نام پر ہی ہے اب ہم نواسے یہ چاہتے ہیں کہ یہ وقف کی ہوئی جگہ کسی بلڈر کو فیصد کے اعتبار سے ڈیولپ کے لئے دیدیا جائے اور بلڈر کی طرف سے فیصد کے اعتبار سے جو بھی فلیٹ ملے وہ مسجد کے نام پر کردئے جائیں تاکہ ان فلیٹ کو کرایہ پر دیکر مسجد کی آمدنی کا ذریعہ بنایا جاسکے ۔
آپ حضرات سے موٴدبانہ گذارش ہے کہ مذکورہ مسئلہ کا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں ۔ بصورت دیگر اگر مذکورہ صورت شرعا جائز نہ ہو تو پھر مذکورہ وقف کی جگہ کیا کیا جائے ۔

Published on: Jan 15, 2018

جواب # 157680

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:457-431/L=4/1439



وقف میں اصل (موقوفہ شئی) کو باقی رکھتے ہوئے نفع سے فائدہ اٹھانے کی حسبِ شرائط اجازت ہوتی ہے ،موقوفہ چیز میں ایسا تصرف کرنا جس سے وقف کا ابطال لازم آئے جائز نہیں،بلڈر کو زمین دیدینے کی صورت میں اصل زمین ہاتھ سے نکل جاتی ہے ،کچھ فلیٹ بلڈر دیدیتے ہیں جس میں وقف کا ابطال لازم ہے ؛اس لیے وقف میں ایسا تصرف جائز نہیں،مسجد کے ذمداران کو آپ وقتاً فوقتاً اس کی طرف توجہ دلاتے رہیں ،اگر مسجد کے ذمہ داران اس کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں تو آپ اپنے طور پر چندہ کرکے اس زمین پرکچھ دوکانیں تعمیر کرادیں جس کا کرایہ مسجد کو جاتا رہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات