متفرقات - تصوف

India

سوال # 157517

تکوینی امور سے کیا مراد ہے ؟ کیاقطب، ابدال، غوث، کو اللہ نے کچھ اختیاردیاہے ؟ اور اہل حق صوفیاْ کی قطب، ابدال، غوث سے کیا مراد ہے ؟

Published on: Jan 22, 2018

جواب # 157517

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:375-49/D=4/1439



حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے ”التکشف“ میں مسند احمد کی ایک روایت نقل فرمائی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:



شریح بن عبید سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے روبرو اہل شام کا ذکر آیا کسی نے کہا اے امیرالموٴمنین ان پر لعنت کیجیے، فرمایا نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے فرماتے تھے کہ ابدال (جو ایک قسم ہے اولیاء اللہ کی) شام میں رہتے ہیں اوروہ چالیس آدمی ہوتے ہیں جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا شخص بدل دیتا ہے ان کی برکت سے بارش ہوتی ہے اور ان کی برکت سے اعداء (دشمنوں) پر غلبہ ہوتا ہے اور ان کی برکت سے اہل شام سے عذاب (دنیوی) ہٹ جاتا ہے۔ (رواہ احمد)



آگے حضرت تھانوی علیہ الرحمن فرماتے ہیں کہ صوفیا کے ملفوظات ومکتوبات سے اقطاب، اوتاد، غوث کے الفاظ اور ان کے مدلولات کے صفات، برکات وتصرفات پائے جاتے ہیں اوپر ذکر کردہ حدیث سے جب ایک قسم کا اثبات ہے تو دوسرے اقسام بھی مستبعد نہ رہے، برکات تو اس حدیث میں مذکور ہیں اور تصرفات تکوینیہ قرآن مجید میں حضرت خضر علیہ السلام کے قصہ سے ثابت ہوتے ہیں۔



دنیا میں از قبیل اصلاح معاش اور انتظام امور جو تغیرات ہوتے ہیں انھیں کو تکوین کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اولیاء دو قسم کے ہوتے ہیں ایک قسم ان حضرات کی جن سے مخلوق کے ارشاد ہدایت واصلاح قلب، تربیت نفوس اور اللہ تعالیٰ کے قرب وقبول کے طریقوں کی تعلیم سپرد ہوتی ہے وہ اہل ارشاد کہلاتے ہیں، ان میں سے جو اپنے زمانہ میں افضل واکمل ہو اور اس کا فیض اتم واعم ہو وہ قطب الارشاد کہلاتا ہے۔



دوسری قسم ان ولیوں کی جن سے متعلق اصلاح معاش وانتظام امور دنیویہ اور دفع بلیات ہے کہ اپنی ہمت باطنی سے باذن الٰہی ان امور کی درستی کرتے ہیں ان کے اختیار میں خود کچھ نہیں ہوتا، یہ حضرات اہل تکوین کہلاتے ہیں اور ان میں سے جو سب سے اعلی اور اقوی اور دوسروں پر حاکم ہوتا ہے اسے قطب التکوین کہتے ہیں، ان کی حالت مثل حضرات ملائکہ علیہم السلام کے ہوتی جن کو مدبرات امر فرمایا گیا ہے۔



قطب، ابدال، غوث وغیرہ اولیاء کی قسمیں ہوتی ہیں جسے اولیاء اللہ ہی جانتے پہنچانتے ہیں، اور یہ انھیں کی اصطلاح ہے، عام لوگوں کو ان اسرار کے درپے نہیں ہونا چاہیے۔



جس بات کا ہرانسان مکلف ہے یعنی رضائے الٰہی کے حاصل کرنے کے طریقے کو جاننا سیکھنا اسی کی کوشش میں لگے رہنا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات