• متفرقات >> تصوف

    سوال نمبر: 149987

    عنوان: کلیات امدادیہ ایك عبارت كا مطلب

    سوال: کلیات امدادیہ تصوف کی کتاب ہے جس کو حضرت مہاجر مکی صاحب رحمہ اللہ نے لکھا ہے، اس کے صفحہ: ۶۸ پر لکھا ہے کہ ”مرشد کے واسطے سے مشائخ طریقت کی روح سے مانگتے ہوئے خلوت میں آجائے“ اس عبارت پر آپ کا کیا حکم ہے؟ اور روح سے مدد مانگنا کہاں تک جائز ہے؟

    جواب نمبر: 149987

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 851-1520/H=1/1439

    استعانت بالمخلوق میں قدرے تفصیل ہے بوادر النوادر جلد اول میں ہے حاجی صاحب رحمة اللہ علیہ ضیاء القلوب ص: ۵۵میں تحریر فرماتے ہیں۔ استعانت و استمداد از ارواحِ مشائخ طریقت بواسطہٴ مرشد خود کردہ الخ ․․․․ الجواب جو استعانت و استمداد بالمخلوق باعتقاد علم وقدرت مستقل مستمد منہ ہو شرک ہے اور جو باعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو مگر وہ علم و قدرت کسی دلیل صحیح سے ثابت نہ ہو معصیت ہے اور جو باعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو اور وہ علم و قدرت کسی دلیل سے ثابت ہو جائز ہے خواہ وہ مستمد منہ حی ہو یا میت اور جو استمداد بلا اعتقاد علم و قدرت ہو نہ مستقل نہ غیر مستقل؛ پس اگر طریق استمداد مفید ہو تب بھی جائز ہے جیسے استمداد بالنار و الماء والواقعات التاریخیہ ورنہ لغو ہے۔ یہ کل پانچ قسمیں ہیں پس استمداد ارواحِ مشائخ سے صاحب کشف بالارواح کے لیے قسم ثالث ہے اور غیر صاحب کشف کے لیے محض ان حضرات کے تصور اور تذکرے قسم رابع ہے کیونکہ اچھے لوگوں کے خیال کرنے سے ان کو اتباع کی ہمت ہوتی ہے اور طریق مفید بھی ہے اور غیر صاحب کشف کے لیے بدون قصد نفع و تذکرہ قسم خامس ہے اھ ص: ۸۲- ۸۳ (مطبوعہ مکتبہ جاوید دیوبند)۔

    تفصیل بالا سے معلوم ہوا کہ قسم ثالث و رابع کی حد تک ارواحِ مشائخ سے استعانت درست ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند