• متفرقات >> تصوف

    سوال نمبر: 601721

    عنوان:

    بیعت کے بعد گناہ ہوجانے سے كیا بیعت ٹوٹ جاتی ہے؟

    سوال:

    میری عمر تقریبا 29 سال ہے اور میں نے 11،12 سال تک مسلسل مشت زنی کی اس پر میرا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے میں بہت پریشان رہتا تھا اور رو رو کر دعائیں کرتا تھا کہ اللہ اس عادت سے نجات دلائے۔ پر ایک دن میں نے ایک شیخ صاحب سے بیعت لی ہے اور اس کے فورا بعد میری زندگی بدل گئی تقریبا میں نے 6 ماہ تک کوئی غلط کام نہیں کیا لڑکیوں سے کوئی روابط نہیں رکھے پھر ایک دن مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا اور میں شیخ صاحب کے پاس گیا اس نے کفارہ اداکرنے کا کہا اور توبہ کرنے کو۔ اب تقریبا اس کے 2 ماہ بعد آج وہی کیفیت رہی اور مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا(مشت زن) اب مجھ میں سکت نہیں کہ شیخ صاحب سے کہوں کہ مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا ہے۔ میں نے 5سو مرتبہ استغفار، 5سو مرتبہ لاحولا ولاقوت اور سو بار لا الہ الا اللہ وغیرہ پڑھے اور اب کفارہ بھی ادا کیا۔ مجھے بتائے کیا اب اس بیعت کو جاری رکھ سکتا ہوں؟ کیونکہ میں شیخ کو نہیں بتا سکتا اور میں بیعت مطلب سلسلے سے ہٹ جاونگا جس کی وجہ سے میری حالت پھر وہی پہلے جیسی ہوجائے گی۔ رہنمائی فرمائے پلیز

    جواب نمبر: 601721

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 409-297/H=05/1442

     اگر وہ متبع سنت شیخ کامل ہیں تو ان سے بیعت ہونا درست ہے اُن کی ہدایات پر سختی سے عمل کرتے رہیں آئندہ بھی ہدایات لیتے رہیں جو گناہ سرزد ہوگیا اُس کو بھی اُن سے صاف صاف بتلادیں یہ کہنا کہ ”میں شیخ کو نہیں بتاسکتا“ یہ شیطانی وسوسہ ہے آپ کی بیعت نہیں ٹوٹی بلکہ باقی ہے بس اخلاص کے ساتھ ہدایات و نصائح حاصل کرکے عمل کرنے کی ضرورت ہے اس میں کوتاہی نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند