معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 161306

زید منگل کے روز اپنے شادی شدہ بھائی کے ساتھ جا رہا تھا راستے میں بات چیت کے دوران زیدنے اپنے بھائی سے کہا کی میںں تیری بھابھی کو طلاق دیتا ہوں اور زید کے بھائی نے یہ بات گھر والوں کوجمعہ کے روز بتائی زید کی بیوی کو بھی اس بات کا علم جمعہ کے روز معلوم ہوئی اس صورت میں طلاق ہو گئی یا نہی۔شریعت کی روشنی میں فتویٰ دیں مہر کے ساتھ۔

Published on: May 16, 2018

جواب # 161306

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:987-784/sn=8/1439



صورتِ مسئولہ میں زید کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی، اگر زید نے صرف یہی جملہ ”میں تیری بھابھی کو طلاق دیتا ہوں“ کہا تھا، اس پر مزید کچھ اضافہ نہیں کیا تھا تو ایک طلاق رجعی واقع ہوئی بہ شرطے کہ بیوی مدخول بہا ہو یا اس کے ساتھ خلوتِ صحیحہ ہوگئی ہو، طلاقِ رجعی کا حکم یہ ہے کہ جب تک بیوی عدت میں ہو شوہر رجوع کرسکتا ہے بایں طور کہ زبان سے دو چار گواہوں کے سامنے یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی تھی اب میں رجوع کرتا ہوں، اگر عدت گزرجائے تو پھر رجعت کی گنجائش باقی نہیں رہے گی؛ بلکہ باہمی رضامندی سے تجدید نکاح ضروری ہوگی۔



نوٹ: اگر زید نے مذکور فی السوال جملہ کے علاوہ کچھ اور بھی کہا تھا تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات