India

سوال # 171407

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں۔ انٹرنیٹ شوپنگ سائٹ فلپکرٹ(flipkart) پر کسی اشیاء کی نقد قیمت 7999 ہے جس کو قسط پر خریدنے کا بھی آپشن ہے۔ اگر ہم اُس کو قسط پر خریدتے ہیں تب اُس کی قیمت الگ الگ ہے۔ (1) 2761 روپیے مہینہ کی 3 قسطوں پر خریدتے ہیں تب ہم کل رقم ادا کرتے ہیں 8281 رپیے (2) 1417 روپیے مہینہ کی 6 قسطوں پر خریدتے ہیں تب ہم کل رقم ادا کرتے ہیں 8497 رپیے (3) 969 روپیے مہینہ کی 9 قسطوں پر خریدتے ہے تب ہم کل رقم ادا کرتے ہیں 8716 رپیے (4) 745 روپیے مہینہ کی 12 کستوں پر خریدتے ہے تب ہم کل رقم ادا کرتے ہیں 8938 رپیے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس طریقے پر اشیاء کے خریدنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں جواب مرحمت کرنے کی مہربانی فرمائیے۔

Published on: Jul 29, 2019

جواب # 171407

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1262-1106/L=11/1440



اگر سامان خریدتے وقت ہی وقت اور ثمن کی تعیین ہوجائے مثلاً: میں تین مہینے، یا چھ مہینے، یا نو مہینے، یاسال بھر کی قسط پر اتنے روپے میں یہ سامان خریدتا ہوں (گو وہ ریٹ موجودہ قیمت سے کچھ زائد ہو) تو اس طور پر خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں ہے۔



وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا أو قال إلی شہر بکذا أو إلی شہرین بکذا فہو فاسد؛ لأنہ لم یعاطہ علی ثمن معلوم ولنہی النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - عن شرطین فی بیع وہذا ہو تفسیر الشرطین فی بیع ومطلق النہی یوجب الفساد فی العقود الشرعیة وہذا إذا افترقا علی ہذا فإن کان یتراضیان بینہما ولم یتفرقا حتی قاطعہ علی ثمن معلوم، وأتما العقد علیہ فہو جائز؛ لأنہما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد(المبسوط للسرخسی 13/ 8، الناشر: دار المعرفة - بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات