• معاملات >> شیئرز وسرمایہ کاری

    سوال نمبر: 602786

    عنوان:

    اگر تجارت کے لئے اپنے پاس سرمایہ وغیرہ نہ ہو تو ایسی صورت میں كیا كرنا چاہیے؟

    سوال:

    مال کی خریداری کے لئے پیسے نہ ہونے کی صورت میں کسی اور سے پیسے لے کر اُسے نفع دے کر مال لینے کا طریقہ بتائیں ۔ مال اس کی ملکیت میں نہیں دے سکتے ۔

    جواب نمبر: 602786

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:521-493/L=7/1442

     مذکورہ بالا صورت میں اگر تجارت کے لئے اپنے پاس سرمایہ وغیرہ نہ ہو تو ایسی صورت میں مضاربت کی شکل اختیار کی جاسکتی ہے ،جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنے کسی قریبی آدمی سے بطور مضاربت کچھ رقم لے لیں اور تجارت شروع کردیں اور اس تجارت میں جو نفع ہواس نفع کو باہم فیصد کے اعتبار سے مقرر کرلیں مثلا نفع ہونے کی صورت میں نفع کا اتنا فیصد ہمارا ہوگا اور اتنا فیصدآپ کا؛البتہ اس صورت میں اگر نقصان ہوتا ہے تو اولا اس کی تلافی نفع سے کی جائے گی پھرسرمایہ سے ،یہ ساری باتیں پیسے دینے والے کو بتلادیں ،اس کے علاوہ قرض لے کر متعین نفع دیتے رہنا درست نہیں ،یہ سود میں داخل ہوجائے گا ۔

    (ہی) لغة:مفاعلة من الضرب فی الارض وہوالسیر فیہا. وشرعا: (عقد شرکةفی الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب). المضارب... (وکون الربح بینہما شائعا) فلو عین قدرا فسدت (در مختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) ۸/ ۳۳۴/ ط زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند