عبادات - صلاة (نماز)

Pakistan

سوال # 170342

شرعی سفر کا اعتبار مسافت سے ہوتا ہے یا مکان سے یا مسافت اور مکان دونوں سے ؟ مثلا ہمارے گاؤں سے راولپنڈی اور اسلام آباد کی حدود 65 یا 70 کلو میٹر پر ہے لیکن ہمیں بازار جانا ہوتا ہے یا کسی عزیز کے گھر جانا ہو تو مسافت 78 یا 80 کلو میٹر بنتی ہے تو اس صورت میں ہمیں نماز پوری ادا کرنی پڑی گی یا قصر؟ برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jul 29, 2019

جواب # 170342

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:809-758/N=11/1440



اگر آپ اپنے گاوٴں سے راولپنڈی یا اسلام آباد کے کسی بازار میں یا وہاں کسی عزیز ورشتہ دار یا دوست کے پاس جاتے ہیں تو سفر شرعی میں مسافت کا اعتبار آپ کے گاوٴں کی آخری آبادی سے راولپنڈی یا اسلام آباد کی ابتدائی آبادی تک ہوگا، آپ کے گھر سے بازار یا دوست کے گھر تک مسافت کا اعتبار نہیں ہوگا، اگر دونوں آبادیوں کے درمیان کی مسافت سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زیادہ ہوتی ہے تو آپ مسافر ہوں گے؛ ورنہ نہیں۔



 من خرج من عمارة موضع إقامتہ من جانب خروجہ…… قاصداً…… مسیرة ثلاثة أیام ولیالیھا ……صلی الفرض الرباعي رکعتین …حتی یدخل موضع مقامہ الخ ( الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ۲: ۵۹۹- ۶۰۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات