• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 30144

    عنوان: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رائیونڈ مرکز سے تبلیغی جماعتوں کا مسلسل خروج ہوتا ہے ، وہاں سے مختلف شہروں میں تشکیل ہوتی ہے ، جس کی مختلف صورتیں پیش آتی ہیں، جو ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں، ان سب کا تفصیلی حکم مطلوب ہے ، براہ کرم جلد جواب مرحمت (الف)? مثلاً25 دن کی تشکیل کراچی شہر ہوئی ، تو رخ والی پرچی پر لکھا ہوتا ہے کہ مکی مسجد ( تبلیغی مرکز، کراچی) کے ذمہ دار احباب سے رُخ لے کر کام کریں ، پھر کراچی والے ہر ہفتے کی الگ الگ تشکیل کرتے ہیں ، کبھی یہ تشکیل شہر کے ایک ٹاؤن یا کالونی وغیرہ کی ہوتی ہے اور کبھی کراچی والے تشکیل کراچی کے دیہاتوں میں کر دیتے ہیں ، ایک ہفتے کے بعد یہ جماعتیں واپس مرکز تشریف لاتی ہیں اور نیا رُخ لے کر کام کرتی ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پورے 25 دن کا رُخ شہر کی مختلف کالونیوں، یا صرف دیہاتوں یا کچھ دن شہر او رکچھ دن دیہاتوں کا رُخ دے کر بھیج دیتے ہیں۔ (ب)? 15 دن سے زائد کی تشکیل رائیونڈ مرکز سے ہوتی ہے اور پرچی پر لکھا ہوتا ہے کہ صرف شہر میں کام کریں۔ (ج)? 15 دن سے زائد کی تشکیل رائیونڈ مرکز سے ہوتی ہے اور پرچی پر 5 یا 6 بستیوں کے نام لکھے ہوتے ہیں ، بستیوں کی عام طور پر نوعیت یہ ہوتیہے کہ ایک ایک قبیلے یا خاندان نے اپنا کنبہ الگ بسایا ہوتا ہے وہاں مسجد بنائی ہوتی ہے ، اس کا الگ نام اہل علاقہ میں معروف ہوتا ہے ، ہر بستی میں دو یا تین دن کام کرکے اگلی بستی میں جاتے ہیں۔ نیز! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ مقامات الگ الگ ناموں سے بھی معروف ہوتے ہیں ، لیکن حقیقت میں اس علاقے میں ان تمام کو ایک شمار کیا جاتا ہے ۔ (د)?15 دن سے زائد کی تشکیل رائیونڈ مرکز سے ہوتی ہے اور پرچی پر شہر کی ہی مختلف مساجد کے نام لکھے ہوتے ہیں ، عام ہے کہ یہ مساجد ایک ہی محلے کی ہوں یا مختلف محلوں کی۔ اب ان تمام صورتوں میں نماز کے احکام بیان کریں کہ جماعت والے اپنی نماز ادا کرنے کی صورت میں قصر کریں گے یا اتمام؟ مسافر اگر قصداً یا نسیاناً پوری نماز ادا کر لے اور سجدہ سہو بھی ادا نہ کرے توکیا حکم ہے؟

    سوال: سوال? کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رائیونڈ مرکز سے تبلیغی جماعتوں کا مسلسل خروج ہوتا ہے ، وہاں سے مختلف شہروں میں تشکیل ہوتی ہے ، جس کی مختلف صورتیں پیش آتی ہیں، جو ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں، ان سب کا تفصیلی حکم مطلوب ہے ، براہ کرم جلد جواب مرحمت (الف)? مثلاً25 دن کی تشکیل کراچی شہر ہوئی ، تو رخ والی پرچی پر لکھا ہوتا ہے کہ مکی مسجد ( تبلیغی مرکز، کراچی) کے ذمہ دار احباب سے رُخ لے کر کام کریں ، پھر کراچی والے ہر ہفتے کی الگ الگ تشکیل کرتے ہیں ، کبھی یہ تشکیل شہر کے ایک ٹاؤن یا کالونی وغیرہ کی ہوتی ہے اور کبھی کراچی والے تشکیل کراچی کے دیہاتوں میں کر دیتے ہیں ، ایک ہفتے کے بعد یہ جماعتیں واپس مرکز تشریف لاتی ہیں اور نیا رُخ لے کر کام کرتی ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پورے 25 دن کا رُخ شہر کی مختلف کالونیوں، یا صرف دیہاتوں یا کچھ دن شہر او رکچھ دن دیہاتوں کا رُخ دے کر بھیج دیتے ہیں۔ (ب)? 15 دن سے زائد کی تشکیل رائیونڈ مرکز سے ہوتی ہے اور پرچی پر لکھا ہوتا ہے کہ صرف شہر میں کام کریں۔ (ج)? 15 دن سے زائد کی تشکیل رائیونڈ مرکز سے ہوتی ہے اور پرچی پر 5 یا 6 بستیوں کے نام لکھے ہوتے ہیں ، بستیوں کی عام طور پر نوعیت یہ ہوتیہے کہ ایک ایک قبیلے یا خاندان نے اپنا کنبہ الگ بسایا ہوتا ہے وہاں مسجد بنائی ہوتی ہے ، اس کا الگ نام اہل علاقہ میں معروف ہوتا ہے ، ہر بستی میں دو یا تین دن کام کرکے اگلی بستی میں جاتے ہیں۔ نیز! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ مقامات الگ الگ ناموں سے بھی معروف ہوتے ہیں ، لیکن حقیقت میں اس علاقے میں ان تمام کو ایک شمار کیا جاتا ہے ۔ (د)?15 دن سے زائد کی تشکیل رائیونڈ مرکز سے ہوتی ہے اور پرچی پر شہر کی ہی مختلف مساجد کے نام لکھے ہوتے ہیں ، عام ہے کہ یہ مساجد ایک ہی محلے کی ہوں یا مختلف محلوں کی۔ اب ان تمام صورتوں میں نماز کے احکام بیان کریں کہ جماعت والے اپنی نماز ادا کرنے کی صورت میں قصر کریں گے یا اتمام؟ مسافر اگر قصداً یا نسیاناً پوری نماز ادا کر لے اور سجدہ سہو بھی ادا نہ کرے توکیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 30144

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 488=164-3/1432

    (۱) مرکز رائیونڈ سے کراچی مرکز مسافت قصر پر ہے، رائیونڈ سے جماعت کو کراچی بھیجا گیا تو کراچی پہنچنے پر جماعت مسافر رہے گی، بشرطیکہ جماعت کا وطن اصلی کراچی نہ ہو، پھر نظام کراچی مرکز کے ذمہ دار حضرات کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں صرف ہفتہ بھر کا نظام کراچی کا بنایا تب بھی جماعت مسافر رہے گی، اگر دیہاتوں کا بنایا تب بھی مسافر ہی ہوگی، البتہ ذمہ داران پندرہ یا زائد دن کا پروگرام کراچی یا کسی بھی بستی میں طے کردیں تو جماعت مقیم ہوجائے گی، ایک بستی کی مختلف مساجد اور مختلف محلوں میں آنے جانے کی وجہ سے اقامت کا حکم نہیں بدلے گا، اگر جماعت کا نظام ذمہ داران مرکز رائیونڈ کے ہاتھ میں ہو اور وہ حضرات پرچی پر کسی شہر میں پندرہ یا زائد دن کام کرنے کی صراحت کردیں تو اس شہر میں پہنچنے پر جماعت مقیم ہوجائے گی، اگر پندرہ سے کم کم ٹھہرنے کی صراحت کریں تو ہربستی میں مسافر رہے گی، جو گاوٴں مستقل آبادی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو الگ الگ بستیاں شمار کی جائیں گی خواہ مجموعہ کو کسی ایک نام سے تعبیر کردیا جاتا ہو اور جو آبادی کسی گاوٴں کے تابع ہو مثلاً کسی گاوٴں کے دوچار کسانوں نے اپنے کھیت باغ میں رہنے اور جانوروں کے رکھنے کا نظم کرلیا تو یہ آبادی اسی گاوٴں کی آبادی شمار ہوگی کہ جس گاوٴں کے وہ کسان ہیں۔
    (۲) مسافر قصدا اِتمام کرے تو نماز نہ ہوگی اور بھول سے کیا اور دوسری رکعت پر قعدہ بھی کرلیا تو سجدہٴ سہو کرلینے پر نماز درست ہوگئی، اگر نہ کیا تو وقت اداء میں واجب الاعادہ ہے اور وقت ادا نکل جانے کے بعد اعادہ مستحب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند