India

سوال # 69049

مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے میرٹھ میں ایک سمیتی ہے جس کا نام ہے ”یووا سیوا سمیتی (yuwa sewa samity) ، وہ ایک ہاسپیٹل کھولنے جارہی ہے، اس کے لیے وہ قربانی کی کھال لینا چاہتی ہے تو کیا ہم اسے قربانی کی کھال دے سکتے ہیں؟

Published on: Sep 2, 2016

جواب # 69049

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1253-1267/N=11/1437



اگر خود قربانی کرنے والا یا اس کا وکیل قربانی کی کھال فروخت کردے تو اس کا پیسہ واجب التصدق ہوتا ہے، یعنی: زکوة اور صدقہ فطر کی طرح وہ پیسہ بھی کسی مسلمان غریب ومسکین کو دے کر اسے مالک با اختیار بنانا ضروری ہوتا ہے، کسی رفاہی کام میں لگانا جائز نہیں ہوتا؛ اس لیے کسی شخص، تنظیم یا ادارہ وغیرہ کو ہاسپٹل کھولنے کے لیے قربانی کی کھالیں دینا جائز نہ ہوگا (فتاوی دار العلوم دیوبند ۱۵: ۵۸۶، ۵۸۷، سوال: ۲۷۲، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند) ، قال اللہ تعالی: إنما الصدقت للفقراء والمساکین الآیة (سورہ توبہ آیت: ۶۰) ، وقال الحصکفي فی الدر (مع الرد، کتاب الزکاة، باب المصرف۳: ۲۹۱ ط مکتبة زکریا دیوبند) : یصرف المزکي إلی کلھم أو إلی بعضھم، …… ویشترط أن یکون الصرف تملیکا، …، لا یصرف إلی بناء نحو مسجد اھ، وفی الرد: قولہ: ”نحو مسجد“ : کبناء القناطر والسقایات وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج والجھاد وکل ما لا تملیک فیہ۔ زیلعي اھ ومثلہ في مجمع الأنھر (کتاب الزکوة ۱: ۳۲۷، ۳۲۸ ط: دار الکتب العلمیة، بیروت) ، حیث قال: ولاتدفع الزکوة لبناء مسجد؛ لأن التملیک شرط فیھا ولم یوجد، وکذا بناء القناطیر وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج وکل ما لا تملیک فیہ اھ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات