معاشرت - نکاح

Bangladesh

سوال # 157514

حضرت میرا سوال یہ ہے کہ میری بہن کو نکاح کے لیے ایک رشتہ آیا ہے لیکن اس لڑ کے کی پہلے شادی ہوگئی تھی اور وہ طلاق شدہ ہے اور میری بہن کی یہ پہلی شادی ہے اور اس ر شتہ کے لے میری والدہ راضی نہیں ہو رہی ہے وہ کہتے ہے کہ میں اپنی بیٹی کو دوسرے پنے پر نہیں دینا چاہتی ہو، ہمارے والد ۔کا انتقال ہوے 5سال ہو گئے ہیں، اور باقی ر شتہ دار بھی کشمکش میں ہے ، اور میری بہن کی عمر بھی 30سال سے زیادہ ہے آگے چل کے ا چھا ر شتہ آئے گا یا نہیں ؟سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔ ہم نے اس کے لئے استخارہ بھی کیالیکن کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔
براہ مہربانی اس کا حل بتائیں۔

Published on: Jan 3, 2018

جواب # 157514

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:433-377/L=4/1439



لڑکے کا پہلے سے شادی شدہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے،آپ لوگ خالی الذہن ہو کر استخارہ کرلیں،اگر استخارہ میں رجحان شادی کی طرف ہو جائے تو شادی کردینے میں مضایقہ نہیں ہے ،اگر ایک بار استخارہ میں کوئی بات سامنے نہ آئے تو متعدد مرتبہ بھی استخارہ کرسکتے ہیں۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات