عبادات - حج وعمرہ

india

سوال # 155875

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک تنظیم علماء و حفاظ کے لیے عمرہ کی ایک اسکیم بنائی ہے کہ ہر فرد سے پانچ سو روپئے کچھ کارروائی کی غرض سے تین یا پانچ سو افراد سے وصول کرکے ان میں سے قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک سو افراد کو امسال اور باقی افراد کو قرعہ اندازی سے دیگر سالوں میں عمرہ کروا رہی ہے، کیا اس طرح عمرہ یا حج کرنا جائز ہے یا نہیں؟
شریعت کی روشنی میں بتائیں۔

Published on: Nov 22, 2017

جواب # 155875

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:185-180/L=3/1439



اگر ہر فرد کو وہ تنظیم عمرہ کراتی ہے تو اسکیم سے فائدہ اٹھانے میں مضایقہ نہیں؛البتہ اگر قرعہ کے ذریعے انتخاب کے بعدجمع شدہ رقم سے عمرہ کراکر بقیہ کو عمرہ سے محروم کردیتی ہے تو اس اسکیم سے فائدہ اٹھانا جائز نہ ہوگا،۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات