عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 156634

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی جوتی مبارک کے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ اگر پڑھی ہے، تو حوالہ اور وجہ جاننا چاہتا ہوں نیز علمائے حق کی کیا تحقیق ہے اس پر؟

Published on: Dec 23, 2017

جواب # 156634

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:259-37T/N=4/1439



(۱، ۲): جی ہاں! حضرت اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نعلین مبارکین میں نماز پڑھی ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت انسسے کیا گیا ہے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نعلین مبارکین کیسی تھیں جن میں آپ نے نماز ادا فرمائی ؟ معلوم نہیں۔ البتہ علمانے فرمایا: نعلین میں نماز پڑھنا اس وقت جائز ہے جب ان میں کسی طرح کی ناپاکی نہ لگی ہوئی ہو اور ان کے ساتھ صحیح طور پر سجدہ بھی کیا جاسکے ، یعنی: سجدہ میں زمین پر پیر کی تمام انگلیاں رکھی جاسکیں، اس سے معلوم ہوا کہ نعلین سے مراد جوتے نہیں ہیں جو انگوٹھا اور انگلیوں کی طرف سے بند ہوتے ہیں؛ بلکہ وہ چپلیں مراد ہیں جو انگوٹھا اور انگلیوں کی طرف سے کھلی ہوئی ہوتی ہیں۔



قال أبو مسلمة سعید بن یزید الأنصاري قال: سألت أنس بن مالکأکان النبي صلی اللہ علیہ وسلم یصلي في نعلیہ؟ قال: نعم (صحیح البخاري، کتاب الصلاة، باب الصلاة فی النعال، ص: ۵۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، عن أبي مسلمة سعید بن یزید قال: قلت لأنس بن مالک: أ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلي فی النعلین؟ قال: نعم (صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب جواز الصلاة فی النعلین، ۱:۲۰۸، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، قولہ: ”قال: نعم“ الخ: فیہ جواز الصلاة فی النعال والخفاف، أي: إذا تحقق طھارتھا ویتمکن معھا من تمام السجود بأن یسجد علی جمیع أصابع رجلیہ کما قالہ الخطابي (فتح الملہم مع التکملة، ۴: ۹۶، ط: دار إحیاء التراث العربي بیروت)۔



(۳، ۴):حضرت اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مخالفت میں نعلین میں نماز پڑھنے کی ترغیب فرمائی ہے اور خود بھی نماز ادا فرمائی ہے؛ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودنعلین اور موزوں کے بغیر نماز پڑھتے تھے؛ اسی لیے علما نے فرمایا: یہ عمل محض مستحب ہے، سنت نہیں ؛ کیوں کہ نعلین میں نماز پڑھنا کسی درجہ میں مقصود بالذات نہیں ہے۔ اور حافظ ابن دقیق العید نے تو فرمایا کہ مستحب بھی نہیں ہے، محض رخصت ہے۔ اور حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پورینے ابو داود شریف کی شرح میں فرمایا: حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہود کی مخالفت میں نعلین میں نماز پڑھنا مامور تھا اور اب چوں کہ نصاری نعلین پہن کر نماز پڑھتے ہیں؛ اس لیے ان کی مخالفت میں نعلین کے بغیر ننگے پیر نماز پڑھنا مامور ہوگا۔ اور شارح مسلم: علامہ ابی نے فرمایا: پاک وصاف نعلین میں نماز پڑھنا اگرچہ جائز ہے؛ لیکن اس سے احتراز کرنا چاہیے خاص طور پر مساجد میں، نیز اگر اہل علم حضرات نعلین میں نماز پڑھیں گے تو عوام اپنی ہر طرح کی نعلین مسجد میں لاکر ان میں نماز پڑھیں گے۔ نیز علما نے فرمایا کہ اگر نعلین کی وجہ سے مسجد کا فرش گندہ ہونے کا اندیشہ ہو جیسا کہ آج کل عام طور پر سڑکوں اور راستوں کی کیچڑ کی وجہ سے لوگوں کی نعلین گندی ہی ہوتی ہیں تو مسجد کے باہر نعلین اتارکر ننگے پیر نماز پڑھنی چاہیے۔



قال ابن دقیق العید: الصلاة فی النعل من الرخص لا من المستحبات ؛ لأن ذلک لا یدخل فی المعنی المطلوب من الصلاة (فتح الملہم مع التکملة، ۴: ۹۶، ط: دار إحیاء التراث العربي بیروت)، وقال العینی:قلت: کیف لا تکون من المستحبات بل ینبغي أن تکون من السنن ؛ لأن أبا داود روی في سننہ …عن یعلی بن شداد بن أوس عن أبیہ قال: قال رسول صلی اللہ علیہ وسلم: ”خالفوا الیھود فإنھم لا یصلون في نعالھم ولا في خفافھم “، ورواہ الحالم أیضاً فیکون مستحباً من جھة قصد مخالفة الیھود، ولیست بسنة؛ لأن الصلاة فی النعال لیست بمقصودة بالذات، وقد روی أبو داود أیضاً من حدیث عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال: ”رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حافیاً ومتنعلاً “، وھذا یدل علی الجواز من غیر کراھة (عمدة القاري، ۴: ۱۷۷، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، قال الشوکاني: إن أحادیث الصلاة فی النعال محمولة علی الندب ؛ لأن التخییر والتفویض إلی المسشیئة کما في حدیث ابن أبي لیلی بعد الأوامر لا ینافی الاستحباب، قال: ”وھذا أعدل المذاھب وأقواھا عندي“۔ قال فی الدر المختار: وینبغي لداخلہ تعاھد نعلہ وخفہ وصلاتہ فیھما أفضل، قال ابن عابدین: أي: صلاتہ فی النعل والخف الطاھرین أفضل مخالفة للیھود، تاتر خانیة (فتح الملہم مع التکملة، ۴: ۹۷، ۹۸، ط: دار إحیاء التراث العربي بیروت)، قال الأبي: ثم إنہ وإن کان جائزاً فلا ینبغي أن یفعل لا سیما فی المساجد الجامعة؛ فإنہ یوٴدي إلی مفسدة أعظم … وأیضاً فإنہ یوٴدي ؛لی أن یفعلہ من العوام من لا یتحفظ فی المشي بنعلہ اھ وفي بذل المجھود: وقلت: دل الحدیث علی أن الصلاة فی النعال کانت مأمورة لمخالفة الیھود، وأما في زماننا فینبغي أن تکون الصلاة مأمورة بھا حافیاً لمخالفة النصاری؛ فإنھم یصلون متنعلاً (متنعلین) لا یخلعون عن أرجلھم اھ (المصدر السابق، ص ۹۸)۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات