• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 604208

    عنوان:

    سود کے متعلق ایک حدیث کی تصدیق

    سوال:

    سود کے متعلق ایک حدیث مشہور ہے جو درج ذیل ہے : الربا سبعون حوبا ایسرھا ان ینکح الرجل امہ دوسری طرح سے یہی حدیث "حوبا" کے مقام پر "جزئا" کے لفظ کے ساتھ بھی سننے کو ملتی ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ اگر صحیح ہے تو اس کے صحیح ترجمہ کے ساتھ اس حدیث کی صحت (صحیح/ضعیف) اور اس کا حوالہ عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا۔

    جواب نمبر: 604208

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:732-129T/D=9/1442

     مذکور فی السوال حدیث مشکوة شریف کے اندر بایں الفاظ مذکور ہے: ”عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: الرِّبَا سَبْعُونَ جزا، أَیْسَرُہَا أَنْ یَنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہُ(مشکوة المصابیح: باب الربا ص:246) جبکہ ابن ماجہ میں یہی روایت اسی سند کے ساتھ ”جزا “کی جگہ ”حوبا “کے الفاظ کے ساتھ مروی ہے - عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا، أَیْسَرُہَا أَنْ یَنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہُ (سنن ابن ماجہ 2/ 764) حدیث کا ترجمہ درج ذیل ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سود کے گناہ کے ستر درجے ہیں ،اور ان میں جو سب سے ادنی درجہ ہے وہ ایسا ہے جیسا کہ کوئی شخص اپنی ماں سے صحبت کرے) نیز ایک روایت میں ”حوبا “کی جگہ ”بابا “کے الفاظ بھی مروی ہیں جیسا کہ مرقاة المفاتیح شرح مشکوة المصابیح کے اندر اس کی صراحت کی گئی ہے ۔

    (وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - الرِّبَا) أَیْ إِثْمُہُ (سَبْعُونَ جُزْئًا) أَیْ بَابًا أَوْ حُوبًا کَمَا جَاءَ بِہِمَا الرِّوَایَةُ (أَیْسَرُہَا) أَیْ أَہْوَنُ السَبْعِینَ (إِثْمًا) وَأَدْنَاہَا کَمَا فِی رِوَایَةٍ (أَنْ یَنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہُ) أَیْ یَطَأُہَا وَفِی رِوَایَةٍ: " الرِّبَا ثَلَاثَةٌ وَسَبْعُونَ بَابًا أَیْسَرُہَا مِثْلَ أَنْ یَنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہَ، وَإِنَّ أَرْبَی الرِّبَا عِرْضُ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ " رَوَاہُ مَالِکٌ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ. رِوَایَةُ: " الرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُونَ بَابًا أَدْنَاہَا مِثْلَ إِتْیَانِ الرَّجُلِ أُمَّہُ، وَإِنَّ أَرْبَی الرِّبَا اسْتِطَالَةُ الرَّجُلِ فِی عِرْضِ أَخِیہِ " رَوَاہُ وَالطَّبَرَانِیُّ فِی الْأَوْسَطِ عَنِ الْبَرَاءِ. فَفِی الْحَدِیثَیْنِ دَلَالَةٌ عَلَی أَنَّ وَجْہَ زِیَادَةِ الرِّبَا عَلَی مَعْصِیَةِ الزِّنَا إِنَّمَا ہُوَ لِتَعَلُّقِ حُقُوقِ الْعِبَادِ إِذِ الْغَالِبُ أَنَّ الزِّنَا لَا یَکُونُ إِلَّا بِرِضَا الزَّانِیَةِ وَلِذَا قَدَّمَہَا اللَّہُ - تَعَالَی - فِی قَوْلِہِ - تَعَالَی - {الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی} [النور: 2] وَإِلَّا فَأَیُّ عِرْضٍ یَکُونُ فَوْقَ ہَتْکِ الْحُرْمَةِ وَمَرْتَبَةِ الْقَذْفِ بِالزِّنَا دُونَ مَعْصِیَةِ الزِّنَا وَاللَّہُ - تَعَالَی - أَعْلَمُ․ (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح 5/ 1925)

    رہا مسئلہ اس حدیث کی صحت کا تو اس حدیث کی متعدد سند یں ہیں حضرت ابو ہریرہ والی جو سند ہے اس میں ایک راوی ہیں ابو معشر جن کا نام نجیح ہے یہ مختلف فیہ ہے ،البتہ یہی روایت ابن ماجہ نے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے نقل کی اس کی سند کو محدثین نے صحیح قرار دیا ہے -

    والْحَدِیث رَوَاہُ ابْن مَاجَہ من حَدِیث أبی ہُرَیْرَة بِلَفْظ الرِّبَا سَبْعُونَ حوبا أیسرہا أَن ینْکح الرجل أمہ وَفِی إِسْنَادہ أَبُو معشر واسْمہ نجیح مُخْتَلف فِیہِ وَرَوَی ابْن مَاجَہ أَیْضا من حَدِیث ابْن مَسْعُود عَن النَّبِی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسلم قَالَ الرِّبَا ثَلَاث وَسَبْعُونَ بَابا وَإِسْنَادہ صَحِیح ہَکَذَا ذکر ابْن مَاجَہ الْحَدِیثین فِی أَبْوَاب التِّجَارَات وَقد رَوَی الْبَزَّار حَدِیث ابْن مَسْعُود بِلَفْظ الرِّبَا بضع وَسَبْعُونَ بَابا والشرک مثل ذَلِک وَہَذِہ الزِّیَادَة قد یسْتَدلّ بہَا عَلَی أَنہ الرِّیَاء بِالْمُثَنَّاةِ لاقترانہ مَعَ الشّرک وَاللہ أعلم․ (تخریج أحادیث الإحیاء = المغنی عن حمل الأسفار ص:1244) (806) حَدثنَا عَمْرو بن عَلیّ الصَّیْرَفِی أَبُو حَفْص ثَنَا ابْن أبی عدی عَن شُعْبَة عَن زبید عَن إِبْرَاہِیم عَن مَسْرُوق عَن عبد اللہ عَن النَّبِی صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم قَالَ الرِّبَا ثَلَاثَة وَسَبْعُونَ بَابا(608) ہَذَا إِسْنَاد صَحِیح وَابْن أبی عدی اسْمہ مُحَمَّد بن إِبْرَاہِیم ہُوَ ثِقَة تفرد بِرِوَایَة ہَذَا الحَدِیث عَن شُعْبَة رَوَاہُ الْبَزَّار فِی مُسْندہ وَرِجَالہ رجال الصَّحِیح وَلہ شَاہد من حَدِیث عبد اللہ بن حَنْظَلَة رَوَاہُ أَحْمد فِی مُسْندہ وَرِجَالہ رجال الصَّحِیح(مصباح الزجاجة فی زوائد ابن ماجہ 3/ 35) وَحَدِیثُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا الطَّبَرَانِیُّ فِی الْأَوْسَطِ وَالْکَبِیرِ، قَالَ فِی مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ: وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِیحِ، وَیَشْہَدُ لَہُ حَدِیثُ الْبَرَاءِ عِنْدَ ابْنِ جَرِیرٍ بِلَفْظِ: الرِّبَا اثْنَانِ وَسِتُّونَ بَابًا أَدْنَاہَا مِثْلُ إتْیَانِ الرَّجُلِ أُمَّہُ .وَحَدِیثُ أَبِی ہُرَیْرَةَ عِنْدَ الْبَیْہَقِیّ بِلَفْظِ: الرِّبَا سَبْعُونَ بَابًا أَدْنَاہَا الَّذِی یَقَعُ عَلَی أُمِّہِ وَأَخْرَجَہُ ابْنُ جَرِیرٍ عَنْ نَحْوِہِ وَکَذَلِکَ أَخْرَجَہُ عَنْہُ نَحْوَہُ ابْنُ أَبِی الدُّنْیَا.وَحَدِیثُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَ الْحَاکِمِ وَصَحَّحَہُ بِلَفْظِ: الرِّبَا ثَلَاثَةٌ وَسَبْعُونَ بَابًا، أَیْسَرُہَا مِثْلُ أَنْ یَنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہُ، وَإِنَّ أَرْبَی الرِّبَا عِرْضُ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ (نیل الأوطار 5/ 225)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند