عبادات - احکام میت

India

سوال # 155638

(۱) میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ اگر میں کسی اپنے رشتہ دار کو اپنے فیملی قبرستان میں مدفون کروں جہاں صرف ہمارے خاندان کے افراد مدفون ہیں تو میں قبر کو پختہ کیوں نہیں کرسکتا؟یا کم سے کم سرہانے پہ کتبہ کیوں نہیں رکھ سکتاہوں جیسا کہ کچھ بزرگوں کی قبریں پختہ ہیں؟اگر بزرگوں کی قبروں کو پختہ کیا جاسکتاہے تو میں اپنے رشتہ داروں کی قبروں کو کیوں نہیں پختہ کرسکتا کہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ کون کہاں دفن ہے؟
(۲) حنفی فقہ کے مطابق کچھ کتابوں کے نام بتائیں ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے ۔ میری بہن نے مجھ سے اس کا مطالبہ کیا ہے۔

Published on: Nov 1, 2017

جواب # 155638

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:159-12/L=2/1439



قبروں کو پختہ بنانا یا اس پر لکھنا جائز نہیں، حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے ۔ عن جابر رضي اللّٰہ عنہ قال : نہی رسول اللّٰہ صلی الّٰہ علیہ وسلم أن تجصص القبور وأن یبنی علیہا وأن توٴطأ، قال أبو عیسی : ہذا حدیث حسن صحیح۔ (جامع الترمذي:۱/۴۶۵، أبواب الجنائز، باب ما جاء في کراہیة تجصیص القبور والکتابة علیہا) قال العلامة الکشمیري: لا یجوز التجصیص عند أحد ولا البناء۔ (العرف الشذي علی الترمذي) وفی زادالمعاد: ولم یکن من ہدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تعلیة القبور ولا بناء ہا بآجر، ولا بحجر ولبن، ولا تشییدہا، ولا تطیینہا، ولا بناء القباب علیہا، فکل ہذا بدعة مکروہة مخالفة لہدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وقد بعث علي ابن أبي طالب إلی الیمن ألا یدع تمثلا إلا طمسہ، ولا قبر مشرفا إلا سَوَّاہ فسنتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تسویة ہذہ القبور المشرفة کلہا، ونہي أن یجصص القبر، وأن یبنی علیہ، وأن یکتب علیہ، وکانت قبور أصحابہ لا مشرفة ولا لاطئة، وہکذا کان قبرہ الکریم وقبر صاحبیہ، فقبرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مُسَنَّمٌ مبطوح ببطحاء العرصة الحمراء لا مبنيَّ ولا مطینَ، وہکذا کان قبر صاحبیہ۔ (زاد المعاد ۱/۵۰۵، فصل في تعلیة القبور، ط: موٴسسة الرسالة، بیروت)۔(۲) آپ اپنی بہن سے کہدیں کہ فضائل اعمال ،تعلیم الدین،حیات المسلمین وغیرہ کتابوں کا مطالعہ کریں،ان شاء اللہ ان کتابوں کے مطالعے اور ان میں مذکورباتوں پر عمل کرنے سے ایمان کی کیفیت میں اضافہ ہوگا۔



نوٹ:قبر کی شناخت کے لیے اس کے پاس کوئی پتھر بطور شناخت رکھنے کی گنجائش ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات