عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

?????

سوال # 168980

حدیث میں آتا ہے کہ کم بولنا چاہئے ،اگر کوئی شخص فلمیں ناچ گانے اور لڑکیوں میں ہی مبتلا رہتا ہو تو اس کو ان سب بے حیائی سے روکنے کیلئے اگر کوئی بہت زیادہ بولے اور دنیا آجرت دونوں کی باتیں کریں اور کبھی کوئی کہانی یا واقعہ سنانے میں کوئی غلطی ہو جائے تو کیا گناہ ہوگا ۔ بہت تفصیل سے جواب دیں کیونکہ یہاں بہت لوگ گناہوں میں مبتلا ہیں ان کو روکنے کی کوئی ترکیب بتائیں جو مفید بھی ہو اور آسان بھی ہو ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔

Published on: Mar 6, 2019

جواب # 168980

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:594-480/sn=6/1440



 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقصد سے بولنا شرعا منع نہیں ہے ؛ البتہ بولنے میں حکمت سے کام لینا چاہئے نیز مناسب موقع دیکھ کر بات کرنی چاہئے، اور گناہوں سے بچانے کے مقصد سے بھی جان بوجھ کر غیر مستند یا اپنی طرف سے گھڑکر کوئی حدیث یا واقعہ نہ بیان کرنا چاہئے ۔



 ادْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِینَ (النحل: 124، 125)



مجموعی طور پر لوگوں میں دینی بیداری پیدا کرنے کی ضروت ہے ، کسی معتبر عالم کے ذریعے وقتا فوقتا دینی بیانات کر ادیئے جائیں، لوگوں کو علما اور مشائخ سے جوڑا جائے، بچوں کو دینی مدارس میں تعلیم دی جائے، اس کے لئے والدین کو آمادہ کیا جائے، گھروں میں فضائل اعمال اور بہشتی زیور وغیرہ کی تعلیم پابندی کے ساتھ شروع کی جائے ،ان شاء اللہ اس سے لوگ راہ راست پر آئیں گے اور برائیوں کو ترک کردیں گے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات