• معاملات >> شیئرز وسرمایہ کاری

    سوال نمبر: 33500

    عنوان: کیا شیئر مارکیٹ میں پیسے لگانا حلال ہے؟ اگر ہے تو کون سے کون طریقے سے حلال ہے ؟

    سوال: (۱) کیا شیئر مارکیٹ میں پیسے لگانا حلال ہے؟ اگر ہے تو کون سے کون طریقے سے حلال ہے ؟ (۲) اور کیا بینک میں عارضی طورپر بحیثیت آفیسر یا کلر ک ملازمت کرسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 33500

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1204=449-8/1432 (۱) شیر مارکیٹ میں پیسے لگانا مندرجہ ذیل شرطوں کے ساتھ جائز ہے: (۱) وہ کمپنی کسی حرام کارو بار میں ملوث نہ ہو۔ (۲) اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں؛ بلکہ اس کمپنی کے کچھ منجمد اثاثے بھی ہوں ورنہ کمی زیادتی سے فروخت کرنا حرام ہوگا۔(۳) اگر اس کمپنی کا حرام کاروبار میں ملوث ہونا ممبر بننے کے بعد معلوم ہو تو اس کی سالانہ میٹنگ میں آواز اٹھائی جائے۔ (۴) نفع کا جتنا حصہ سودی کاروبار سے حالص ہوا ہو اس کو بلانیت ثواب فقراء وغیرہ پر صرف کردیا جائے۔ (۵) شیئرز کی خرید وفروخت سے مقصود حصہ داری حاصل کرنا ہو نفع نقصان برابر کرکے نفع کمانا مقصود نہ ہو۔ جس میں نہ تو شیئرز پر قبضہ ہوتا ہے نہ ہی قبضہ پیش نظر ہوتا ہے؛ کیونکہ یہ سٹہ بازی کی شکل ہے جو حرام ہے۔ (۲) بینک میں کسی ایسے کام کی ملازمت جس میں سود دینے سود لینے، سود لکھنے ارو اس پر گواہی دینے کے اعتبار سے سود پر تعاون ہو جائز نہیں، البتہ اگر کوئی شخص بینک کا ملازم ہو تو اس کو چاہیے کہ دوسری ملازمت کی تلاش میں سعی بسیار سے کام لے اور دوسری ملازمت ملتے ہی اس کو ترک کردے، فوراً اس کو بینک کی ملازمت نہ چھوڑنی چاہیے: لأن الإنسان إذا ابتلي ببلیتین فلیختر أہونہما․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند