• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 292

    عنوان:

    مسلمانوں کو (غیرسودی) قرض لینے اور دینے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔

    سوال:

    مسلمانوں کو (غیرسودی) قرض لینے اور دینے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً! والسلام

    جواب نمبر: 292

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 430/ج=430/ج)

     

    قرض لینے دینے کے سلسلے میں قرآن کریم نے مندرجہ ذیل ہدایات دی ہیں:

    (۱) جب بھی قرض کا معاملہ کیا جائے تو اس کے لیے کوئی متعین میعاد ضرور مقرر کرلی جائے، میعاد ایسی ہو جس میں کوئی ابہام نہ ہو، مہینہ اور تاریخ کے ساتھ معین کی جائے۔

    (۲) ادھار کے معاملات کی دستاویز لکھ لی جائے تاکہ بھول چوک یا انکار کے وقت کام آئے۔

    (۳) اسی وقت اس پر دو عادل مرد یا ایک مرد داور دو عورتوں کو گواہ بھی بنالیا جائے تاکہ اگر کسی وقت باہمی نزاع پیش آجائے تو عدالت میں ان گواہوں کی گواہی سے فیصلہ ہوسکے۔ (ماخوذ از معارف القرآن: ۱/۶۲۴، ۶۲۵)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند