• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 1843

    عنوان:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفیتان عظام اس مسئلے کے بارے میں؟ صورت مسئلہ یہ ہے کہ زید عمر کو ایک لاکھ ڈالر قرضہ دیتی ہے ایک سال کی میعاد پر اور موجودہ قیمت اس کا ساٹھ لاکھ افغانی بنتا ہے اورآئندہ سال زید عمر سے لے گا۔ قرضہ دیتے وقت یہ بات طے کرچکے تھے۔ شرعاً یہ لین دین جائز ہے یا نہیں؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفیتان عظام اس مسئلے کے بارے میں؟ صورت مسئلہ یہ ہے کہ زید عمر کو ایک لاکھ ڈالر قرضہ دیتی ہے ایک سال کی میعاد پر اور موجودہ قیمت اس کا ساٹھ لاکھ افغانی بنتا ہے اورآئندہ سال زید عمر سے لے گا۔ قرضہ دیتے وقت یہ بات طے کرچکے تھے۔ شرعاً یہ لین دین جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 1843

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  880/ج = 880/ج)

     

    جی ہاں! مذکورہ لین دین شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند