عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

india

سوال # 146092

غیر مقلدین امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے اس قول سے تقلید کا رد کرتے ہیں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ایک دن قاضی ابویوسف کو فرمایا: اے یعقوب (ابویوسف) تیری خرابی ہو، میری ہربات نہ لکھا کر، میری آج ایک رائے ہوتی ہے اور کل بدل جاتی ہے، کل دوسری رائے ہوتی ہے پھر پرسوں وہ بھی بدل جاتی ہے۔ (تاریخ بغداد 13/424 تاریخ ابن معین 2/607 وسندہ صحیح)
برائے مہربانی اس کا جواب دیں۔

Published on: Dec 19, 2016

جواب # 146092

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 191-260/L=3/1438



 



تاریخ بغداد کے حوالہ سے جو بات نقل کی گئی ہے اس سے تقلید کا رد نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام صاحب اپنے اصحاب کو مسائل میں کوئی ایک قول ثابت و محقق ہونے سے پہلے جلدی لکھ لینے سے احتیاطاً منع کررہے ہیں، لہٰذا اس عبارت سے تقلید کا رد کرنا درست نہیں کما لایخفی علی متدبر۔



قال الشیخ زاہد الکوثری رحمہ اللہ بعد سرد ہذہ الروایة ”انظر کیف کان ینہی أصحابہ عن تدوین المسائل إذا تعجل أحدہم بکتابتہا قبل تمحصہا کما یجب، فإذا أحطت بما سبق علمت صدق مایقولہ الموفق المکی: (ص۱۱۳/۲) حیث قال: بعد أن ذکر کبار أصحاب أبي حنیفة: وضع أبو حنیفة مذہبہ شوری بینہم، لم یستبدّ فیہ بنفسہ دونہم اجتہاداً منہ فی الدین ومبالغة فی النصیحة للہ ورسولہ والموٴمنین فکان یلقی المسائل مسألة مسألة ویسمع ما عندہم ویقول ما عندہ ویناظرہم شہراً أو أکثر حتی یستقر أحد الأقوال فیہا، ثم یثبتہا أبویوسف رحمہ اللہ تعالیٰ فی الأصول“ مقدمة نصب الرایة (ج:۱/۲۳)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات