معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 145736

میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا مزاج ایسا ہے کہ وہ دوسروں سے حسد اور جلن رکھتا ہے اور اپنے کو بہتر اور اعلی سمجھتا ہے اور جس شخص سے بھی وہ حسد و جلن کرتا ہے وہ اگر ایسے شخص کو جو کہ متکبر مزاج ہو سلام یا کچح کلام کرے تو وہ اور زیادہ مغروریت میں آجاتا ہو اور حسد و جلن کی وجہ سے وہ دوسرے شخص کے ساتھ نا مناسب باتیں جیسے گالی گفتار، طعنہ شاہی، اور اُس کے گھر والوں تک کو برا بھلا کہتا ہوں جس سے سامنے والے شخص کے اندر بھی غصہ بھڑکنے کا ڈر ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ کہیں ان میں مار پیٹ نہ شروع ہو جائے اور یہ بھی اندیشہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس شخص کے غلت گفتگو سے سامنے والے شخص کے دل میں اس کے لئے کوئی برائی کینہ، بغض وغیرہ پیدا ہوجاوے تو کیا ایسے حالات کے تحت مصلتاً ایسے شخص سے بات کر نے سے گریذ کیا جا سکتا ہے ؟ یعنی بات کر نے پر جہاں برائی و لڑائی کا اندیشہ ہو اور خرابی پیدا ہو۔ایسی نوعیت میں بات نہ کرنہ بہتر ہو ایسی صورت حال میں بات چیت بند کی جاسکتی ہے ؟ اور اسی طرح اگر اُس میں کچھ دینی مصلحت بھی شامل ہوں کے بیدینی پر بھی ناراضگی ہو اور سب سمجھا کر دیکھ چکے ہوں لیکن وہ اپنی ہٹ دھرمی پر جما رہے تو ایسے شخص کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے ؟ جیسا کہ دعائے قنوت میں آتا ہے کہ چھوڑتے ہیں اور الگ کرتے ہیں ایسے شخص کو جو آپ کی نا فرمانی کرے اس سے کیا مرا د ہے ؟

Published on: Dec 28, 2016

جواب # 145736

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 245-202/SN=3/1438



 



دفعِ شر، زجر و توبیخ اور اپنے کو گناہوں میں ملوث کرنے سے بچانے کے لیے کنارہ کش رہنے اور بات چیت بند کرنے کی گنجائش ہے؛ لیکن اولاً یہی کوشش ہونی چاہئے کہ ”علیک سلیک“ برقرار رکھتے ہوئے حکمت و مصلحت کے ساتھ اصلاح اور دفع شر کی کوشش اور اس کے لیے تدبیر کی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث ”لایحل للرجل أن یہجر أخاہ فوق ثلاث لیالٍ الحدیث کی شرح میں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا: قال الخطابی: رخص للمسلم أن یغضب علی أخیہ ثلاث لیالٍ لقلّتہ ولایجوز فوقہا إلا إذا کان الہجران فی حق من حقوق اللہ تعالیٰ فیجوز فوق ذلک․․․․․․ قال ابن عبد البر: ہذا مخصوص بحدیث کعب بن مالک ورفیقیة حیث أمر صلی اللہ علیہ وسلم أصحابہ بہجرہم یعنی زیادة علی ثلاث إلی أن بلغ خمسین یوماً، قال: وأجمع العلماء علی من خاف من مکالمة أحد وصلتہ ما یفسد علیہ دینہ أو یدخل مضرّة فی دنیاہ یجوز لہ مجانبتہ وبعدہ ورب صرم جمیل خیر من مخالطة توذیہ․ (مرقاة شرح المشکاة، باب ما ینہی عنہ من التہاجر)



---------------------



اگر دینی یا دنیوی مضرت کا واقعی اندیشہ ہوتو ترک کلام کی گنجائش ہے۔ (ن)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات