معاملات - دیگر معاملات

pakistan

سوال # 146418

سرکاری محکموں میں سرکاری ملازمین کیلئے جو\"جی پی فنڈ\" مقرر ہوتی ہے ۔ اس کے طریقہ کار سے تو آپ بخوبی آگاہ ہوں گے لیکن مختصر طور پر میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس \"جی پی فنڈ\" پر محکمے والے انٹرسٹ دیتے ہے جو کہ اس کی وجہ سے آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور بعد میں اس کو ملازم کے ریٹائر ہونے پر اس کو دی جاتی ہے ۔ میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس کو لینا کیسا ہے ؟ اگر ٹھیک نہیں ہے تو اس کے ساتھ کیا کرنا چا ہئے ؟ کیونکہ یہ کسی بھی ملازم کے لئے اس کی باقی زندگی کیلئے ایک سرمایہ ہوتا ہے ۔برائے مہربانی! اس بارے میں میری مکمل رہنمائی کیجئے اور مجھے پوری تصدیق کے ساتھ اپنا فتوا ارسال کریں تا کہ میں اور دوستوں کو بھی صحیح مسئلے پر عمل کرنے کی تلقین کروں۔

Published on: Dec 1, 2016

جواب # 146418

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 217-165/H=2/1438



جی پی فنڈ کے عنوان سے سرکار جو رقم تنخواہ سے کاٹتی ہے اور اس کے کٹوانے یا نہ کٹوانے میں ملازم کو کچھ اختیار نہیں ہوتا بلکہ سرکار بالا بالا کاٹ لیتی ہے اس رقم پر ملازم کی ملکیت شرعاً متحقق نہیں ہوتی پھر اُس رقم پر انٹرنیٹ کے عنوان سے آہستہ آہستہ جو کچھ اضافہ کرتی ہے وہ بھی ملازم کی ملکیت میں نہیں آتا او رنہ ہی شرعی اصول کے مطابق اُس اضافی رقم پر سود کی تعریف صادق آتی ہے پس یہ دونوں قسم کی رقمیں ایسی ہیں کہ جن پر ملازم کی ملکیت نہیں ہوتی البتہ قانونی لحاظ سے دونوں طرح کی رقموں کا ملازم مستحق ہوتا ہے وہ رقمیں جب ملازم کو ملیں گے اُس وقت وہ اُن رقموں کا مالک ہوگا اور اُن کو وصول کرلینے کے بعد ان میں تمام تصرفات کا ملازم کو حق حاصل ہوگا خواہ اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے چاہے کسی کو صدقہ یا ہبہ کرے وغیرہ سب تصرفات کا اس کو حق ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات