• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 13419

    عنوان:

    کیاکرایہ کا گھر لے کر اس کو یا اس کے کچھ حصہ کو دوسرے شخص کوکرایہ پر دیناجائز ہے؟ مثلاً ایک شخص ایک فلیٹ پانچ ہزار روپیہ کرایہ پر اور دو لاکھ ڈپوزٹ پر لے رہا ہے۔ اور میں اس سے اس فلیٹ کو نوہزار کرایہ پر لینا چاہتا ہوں بغیر کسی ایڈوانس رقم کے ،تو اس صورت میں اس کی ہر ماہ چار ہزار کی آمدنی ہوگی۔ کیااس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

    سوال:

    کیاکرایہ کا گھر لے کر اس کو یا اس کے کچھ حصہ کو دوسرے شخص کوکرایہ پر دیناجائز ہے؟ مثلاً ایک شخص ایک فلیٹ پانچ ہزار روپیہ کرایہ پر اور دو لاکھ ڈپوزٹ پر لے رہا ہے۔ اور میں اس سے اس فلیٹ کو نوہزار کرایہ پر لینا چاہتا ہوں بغیر کسی ایڈوانس رقم کے ،تو اس صورت میں اس کی ہر ماہ چار ہزار کی آمدنی ہوگی۔ کیااس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

    جواب نمبر: 13419

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1335=1048/ھ

     

    جائز نہیں، البتہ اگر اصل مالک کی اجازت ہو اور پہلے کرایہ دار نے جو حصہ کرایہ پر دیا اس میں کچھ اضافہ عمارت میں کردیا ہو تو اس کو کرایہ پر دوسرے شخص کو دینے کی گنجائش ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند