عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 158448

حضرت، میں نے ایک مسئلہ میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی قسم کھائی کہ میں یہ کام کروں گا، جب کہ اب مجھ سے وہ کام نہیں ہو رہا ہے اور میں قسم نبھا نہیں پا رہا ہوں، میں کیا کروں، اس کا کفارہ کیسے ادا کروں؟ بتائیں۔

Published on: Feb 10, 2018

جواب # 158448

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 597-511/L=5/1439



اگر کوئی ضرورت یا مجبوری ہو تو صرف اللہ کی قسم کھانا چاہیے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھانا جائز نہیں،فقہاء نے اس سے منع فرمایا ہے ؛لہذا قسم کی روسے آپ پر کوئی کفارہ واجب نہیں ؛البتہ اگر آپ نے نیک کام کے کرنے کا عزم کیا ہو تو اس کو پورا کرنا بہتر اور پسندیدہ ہوگا۔ولا یقسم بغیر اللّٰہ کالنبي والقرآن والکعبة۔ (الدر المختار) وفي الشامیة: بل یحرم کما في القہستاني؛ بل یخاف منہ الکفر۔ (شامي، الأیمان / مطلب في القرأن ۵/۴۸۵زکریا)



لا یکون الیمین بغیر اللّٰہ تعالیٰ فإنہ حرام۔ (مجمع الأنہر ۲/۲۶۹بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات