معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 162147

میرے نانا کے انتقال کو ۱۸/ سال ہو چکے ہیں اور نانی کے انتقال کو ۶/ سال، لیکن ہمارے ماموں نے ابھی تک بہنوں کی وراثت نہیں دی ہے، وراثت میں ایک گھر ہے ۲۰۰/ گز کا۔ سوال یہ ہے کہ:
(۱) وراثت کی تقسیم مرد کے انتقال کے بعد ہوتی ہے یا عورت کے؟
(۲) نانا کے انتقال کے بعد اگر وراثت تقسیم ہوتی تو نانی کہاں جاتیں؟
(۳) اگر ہمارے ماموں الگ سے بہنوں کو پیسے دیدیں تو کیا وہ وراثت سے دست بردار ہوسکتے ہیں؟

Published on: Jul 5, 2018

جواب # 162147

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1191-1096/M=10/1439



(۱) تقسیم وراثت، مرد کے انتقال کے بعد بھی ہوتی ہے اور عورت کے انتقال کے بعد بھی، اگر مرد اپنی ملکیت میں ترکہ چھوڑ کر مرا ہے تو اس کی تقسیم مرد کے انتقال کے بعد ہوگی اور اگر عورت اپنی ملکیت میں ترکہ چھوڑ کر مری ہے تو اس کی تقسیم عورت کے انتقال کے بعد ہونی چاہئے۔



(۲) نانا کے ترکہ سے جو حصہ نانی کو ملتا وہ اگر رہائش کے قابل ہوتا اس حصے میں رہتی یا اولاد کے ساتھ رہتیں۔



(۳) اگر ماموں ، بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے بجائے ان کے مقررہ حصے کی قیمت دیدیں اور بہنیں اس پر راضی ہوں تو اس طرح بھی تقسیم درست ہے پیسے لینے کے بعد جائیداد سے ان کا حصہ ختم ہو جائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات