• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 600577

    عنوان: كیا نومسلمہ خاتون كی وراثت كا مسئلہ

    سوال:

    { 1}اس خاتون کے بھائی جو ابھی بھی غیر مسلم ہیں وہ اپنی بہن کو اپنے والد کی جائداد میں سے حصہ دیناچاھتے ہیں... تو کیا جائداد لے سکتے ہیں؟

    { 2 }اور وہ جائداد تب ہی ملے گی جب کہ آدھار کارڈ پر اس نو مسلم خاتون کا نام غیروں والا ہو تو کیا وقتی طور پر نام بدلا جاسکتا ہے جائداد لینے کیلئے ؟

    جواب نمبر: 600577

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 196-161/B=03/1442

     (۱، ۲) والد کی جائداد میں سے جو کچھ بھائی کو ملا ہے اس میں سے غیر مسلم بھائی اپنی مسلمان بہن کو دے سکتا ہے، یہ ہبہ ہے۔ زندگی میں جو کچھ بھائی دے رہا ہے یہ ایک عطیہ، احسان اور ہبہ ہے۔ نو مسلم بہن لے سکتی ہے۔ براہ راست باپ سے میراث کا حق لینا جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ اختلاف دین کی وجہ سے یہ بہن اپنے باپ کی میراث کا حق لینے کی حقدار نہ ہوگی۔ ہاں بھائی کو جو کچھ باپ سے ملا ہے اس میں سے بھائی اپنی نومسلم کو جائداد دے سکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند