عقائد و ایمانیات - فرق باطلہ

Pakistan

سوال # 42688

1- اللہ تبارک و تعالی کی صفات خاصہ (خالقیت، ربوبیت، مالکیت، علم کلی وغیرہ صفات حمیدہ)کی طرح کیا نبوت و رسالت کی بھی کوئی خاص صفات ایسی ہیں کہ جن سے نبی و رسول غیر نبی سے ممتاز ہو جائے تو وہ کیا صفات ہیں، وضاحت سے مبرہن فرماویں۔
2- آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار کرنیوالے کے لیے کسی کو نبی رسول پیغمبر واضح لفظوں میں کہنا کیا ضروری ہے یا پھر ایسی صفات جو خاصہ نبوت ہیں کسی غیر نبی میں ماننے سے وہ شخص کافر زندیق و مرتد ہو جاوے گا؟
3- آخر الانبیاء کے تشریف لے جانے کے بعد کیا ان صفات خاصہ نبوت کا دعوی کسی طبقہ یا گروہ نے کسی اور شخص کے بارے میں کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو ان کا کیا حکم ہے تاریخی تحقیقی حوالہ جات سے نوازیں۔

Published on: Jan 1, 2013

جواب # 42688

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 96-37/L=2/1434

۱) نبی اور رسول کی صفات خاصہ میں سے یہ ہے، نبی اور رسول معصوم عن الخطا ہوتے ہیں۔
۲) ان کا ہرحکم مفترض الطاعت ہوتا ہے۔
۳) ان کا ہرعلم قطعی ہوتا ہے، شک وتردد کا اس میں احتمال نہیں ہوتا۔
۴) ان کی ہدایات واحکامات کا تعلق اصالةً ہرگوشہٴ حیات سے ہوتا ہے۔
۵) نبی ورسول کا ہرحکم مذہب بن جاتا ہے۔
۶) نبی ورسول کی ذات وحدتِ ملی کا مستحکم مرکز ہوتی ہے، اسی لیے ان کی ذات ایمان وکفر کا محور ہوتی ہے، یعنی نبی ورسول سے وابستگی ایمان اور اس سے علیحدگی کفر سے موسوم ہوتی ہے، (مستفاد ترجمان السنہ: ۱/۱۶/ ۱۵/۴)

(۲) ختم نبوت کا انکار کرنے والے کے لیے کسی کو اضح لفظوں میں نبی ورسول کہنا ضروری نہیں، بلکہ اگر ان صفات کو جو صفات خاصہٴ نبوت ہیں کسی شخص میں ثابت ماننے سے بھی کافرومرتد ہوجائے گا۔ ایمان کا تعلق اعتقادات سے ہے نہ کہ الفاظ سے ، اس لیے اگر کوئی شخص زبان سے ان صفات کا تلفظ نہ کرے لیکن دل سے کسی غیرنبی کے لیے ان صفات کا اعتقاد رکھے تو بھی وہ بلاشبہ کافر ہے، البتہ چوں کہ قلب کی حالت پوشیدہ رہتی ہے اس لیے جب تک وہ زبان سے اس کا اعتراف نہیں کرے گا اس پر ظاہراً کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ من خطر بقلبہ ما یوجب الکفر إن تکلم بہ وہو کارہ لذلک فذلک محض الإیمان وإذا عزم علی الکفر ولو بعد مائة سنة یکفر في الحال کذا في الخلاصة (الہندیة: ۲/۲۸۳)
(۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے إنہ سیکون في امتي کذابون ثلاثون کلہم یزعم أنہ نبي اللہ وأنا خاتم النّبیین لا نبي بعدي (ترمذی)چنانچہ صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق آپ ہب کی حیاتِ طیبہ میں جھوٹے مدعیانِ نبوت ظاہر ہونے شروع ہوگئے تھے، مسیلمہ، اسود عنسی، طلیحہ وغیرہ کے نام اسلامی تاریخ میں معروف ومشہور ہیں، پھر مختلف زمانوں میں مختلف مقامات پر جھوٹے مدعیان نبوت ظاہر ہوتے رہے اور ان میں بعض کے ہزاروں کی تعداد میں پیروکار بھی ہوئے ، چنانچہ برصغیر ہند میں انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں مرزا غلام احمد نامی ایک شخص نے بھی تدریجی طور پر نبوت کا دعویٰ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بہی طرح کی نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر زندیق ہے، اس کے پیروکاروں کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ بھی کافر زندیق ہیں۔ إذا لم یعرف الرجل أن محمدا صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأنبیاء علیہم وعلی نبینا السلام فلیس بمسلم کذا في الیتیمیة (الہندیة: ۲/۲۶۳)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات