Pakistan

سوال # 63960

اسلام میں بچوں کے حقوق اور والدین کے فرائض کیا ہیں؟خاص طورپر شادی کے حوالے سے؟ اور بچوں کے تئیں والدین اپنے فرائض میں کس حد تک ذمہ دار ہوتے ہیں؟

Published on: Apr 25, 2016

جواب # 63960

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 466-466/Sd=7/1437

اَولاد اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور اَمانت ہے، اُس کی خیرخواہی والدین پر لازم ہے، اور دنیوی خیر خواہی سے زیادہ دینی خیرخواہی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے حقوق کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ:
(۱) پیدائش کے بعد بائیں کان میں اذان اور دائیں کان میں اِقامت کہی جائے۔
(۲) ساتویں دن عقیقہ کیا جائے۔ (۳) اچھا نام رکھا جائے۔
(۴) بولنے کے قابل ہو تو اللہ کا نام زبان سے ادا کرایا جائے۔
(۵) سات سال کا ہو تو نماز کی تعلیم دی جائے۔
(۶) دس سال کی عمر ہو تو نماز نہ پڑھنے پر تنبیہ کی جائے۔
(۷) دینی تعلیم وتربیت کا خاص اہتمام رکھا جائے۔
(۸) جب شادی کی عمر ہوجائے اور مناسب رشتہ مل جائے تو جلد از جلد نکاح کرادیا جائے۔ رشتہ طے کرنے میں اولاد کی رائے اور رضامندی کا خیال رکھا جائے۔
عن عبید اللّٰہ بن أبي رافع عن أبیہ رضي اللّٰہ عنہ قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أذّن في أذن الحسن بن علي رضي اللّٰہ عنہ حین ولدتہ فاطمة بالصلاة۔ (سنن الترمذي، أبواب الأضاحي / باب الأذان في أذن المولود ۱/۲۷۸ رقم: ۱۵۱۴، السنن الکبریٰ للبیہقي ۱۴/۲۶۴ رقم: ۱۹۸۴۶، المعجم الکبیر ۱/۳۱۳ رقم: ۹۲۶، مجمع الزوائد ۴/۵۹) عن سمرة رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: الغلام مرتہن بعقیقتہ، یذبح عنہ یوم السابع، ویسمّٰی ویحلق رأسہ۔ (سنن الترمذي، أبواب الأضاحي / باب ۱/۲۷۸ رقم: ۱۵۳۳، السنن الکبریٰ ۱۴/۲۵۲ رقم: ۱۹۸۰، المستدرک للحاکم ۷/۲۷۰ رقم: ۷۵۷۸، المعجم الأوسط ۳/۲۳۳ رقم: ۴۴۳۵) عن جابر رضي اللّٰہ عنہ قال: عق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الحسن والحسین وختنہما لسبعة أیام۔ (شعب الإیمان للبیہقي ۶/۳۹۴ رقم: ۸۶۳۸، السنن الکبریٰ ۱۳/۱۴۰ رقم: ۱۸۰۵) عن أبي الدرداء رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إنکم تُدعون یوم القیامة بأسمائکم وأسماء آبائکم فحسنوا أسماء کم۔ (سنن أبي داوٴد رقم: ۴۹۴۸، ۲/۶۷۶ مکتبة سعد دیوبند، صحیح ابن حبان ۸/۵۲۸ رقم: ۵۷۸۸، المسند للإمام أحمد بن حنبل ۵/۱۹۴ رقم: ۲۲۰۳۵ دار الفکر بیروت، السنن الکبریٰ للبیہقي ۱۴/۲۶۷ رقم: ۱۹۸۵۱) عن جابر بن سمرة رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لأن یوٴدِّب الرجل ولدہ خیرٌ من أن یتصدق بصاعٍ۔ (سنن الترمذي، أبواب البر والصلة / باب ما جاء في أدب الولد ۲/۱۶ رقم: ۱۹۵۱) عن أیوب بن موسیٰ عن أبیہ عن جدہ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ما نحل والدٌ ولدًا من نحل أفضل من أدب حسن۔ (سنن الترمذي، أبواب البر والصلة / باب ما جاء في أدب الولد ۲/۱۶ رقم: ۱۹۵۲) عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أکرموا أولادکم، وأحسنوا أدبہم۔ (سنن ابن ماجة / باب بر الوالد والإحسان إلی البنات ص: ۲۶۱ رقم: ۳۶۷۱، الترغیب والترہیب مکمل، کتاب النکاح وما یتعلق بہ / الترغیب في تأدیب الأولاد ص: ۴۴۳ رقم: ۳۰۷۰-۳۰۷۱-۳۰۷۲ بیت الأفکار الدولیة) عن عبد الملک ابن الربیع بن سبرة عن أبیہ عن جدہ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: مروا الصبي بالصلاة إذا بلغ سبع سنین، وإذا بلغ عشر سنین فاضربوہ علیہا۔ (سنن أبي داوٴد، کتاب الصلاة / باب متی یوٴمر الغلام بالصلاة؟ ۱/۷۰ رقم: ۴۹۵ دار الفکر بیروت، سنن الترمذي ۱/۹۲ رقم: ۴۰۷، مشکاة المصابیح ۱/۵۷) عن أبي سعید وابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من ولد لہ ولد فلیحسن إسمہ وأدّبہ، فإذا بلغ فلیزوجہ، فإن بلغ ولم یزوجہ فأصاب إثمًا فإنما إثمہ علی أبیہ۔ (مشکاة المصابیح / کتاب النکاح ۲۷۱) عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لہ یا علي! ثلاثٌ لا تُوٴخِّرہا: الصلاة إذا اٰنت، والجنازة إذا حضرت، والأیم إذا وجدت لہا کفوًا۔ (سنن الترمذي، کتاب الجنائز / باب ما جاء في تعجیل الجنازة ۱/۲۰۶ رقم: ۱۰۹۶) (کتاب النوازل:۱۵/۱۲۵)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات